تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 78 of 1089

تذکرہ — Page 78

اَوْفَی اللّٰہُ اَجْرَکَ۔۱۹۔وَیَرْضٰی عَنْکَ رَبُّکَ وَیُتِمُّ اسْـمَکَ ۲۰۔وَعَسٰی اَنْ تُـحِبُّوْاشَیْئًا وَّھُوَشَـرٌّ لَّکُمْ وَعَسٰی اَنْ تَکْرَھُوْاشَیْئًا وَّھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۔۱۸۔خدا تیرا بدلہ پورا دے گا۔۱۹اور تجھ سے راضی ہوگا اور تیرے اسم کو پورا کرے گا۔۲۰اور ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو دوست رکھو اور اصل میں وہ تمہارے لئے بُری ہو۔اور ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو بُری سمجھو اور اصل میں وہ تمہارے لئے اچھی ہو اور خدائے تعالیٰ عواقب ِ امور کو جانتا ہے تم نہیں جانتے۔۲۱کُنْتُ کَنْزًا مَّـخْفِیًّا فَاَحْبَبْتُ اَنْ اُعْرَفَ۔۲۲۔اِنَّ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰھُمَا۔۲۳۔وَ اِنْ یَّتَّخِذُ وْنَکَ اِلَّا ھُزُوًا۔اَھٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰہُ۔۲۴۔قُلْ اِنَّـمَا بَشَـرٌ؎۱ مِّثْلُکُمْ یُوْحٰی اِلَیَّ اَنَّـمَا اِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ۔۲۵۔وَالْـخَیْرُکُلُّہٗ فِی الْقُرْاٰنِ۔۲۶۔لَا یَـمَسُّہٗ اِلَّا الْمُطَھَّرُوْنَ۔۲۷۔وَلَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُـمُرًامِّنْ قَبْلِہٖ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۔۲۱میں ایک خزانہ؎۲پوشیدہ تھاسو میں نے چاہا کہ شناخت کیا جاؤں۔۲۲آسمان اور زمین دونوں بند تھے سو ہم نے ان دونوں کو کھول دیا۔۲۳اور تیرے ساتھ ہنسی سے ہی پیش آئیں گے اور ٹھٹھا مار کرکہیں گے کیا یہی ہے جس کو خدا نے اصلاحِ خلق کے لئے مقرر کیا۔یعنی جن کا مادّہ ہی خبث ہے اُن سے صلاحیت کی اُمید مت رکھ۔۱ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) یہ وحی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام نے اربعین نمبر ۲ کے صفحہ۸پر بحوالہ براہین احمدیہ یوں نقل فرمائی ہے ’’قُلْ اِنَّـمَآ اَنَـا بَشَـرٌ مِّثْلُکُمْ۔‘‘ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ براہین احمدیہ میں بَشَرٌ سے پہلے ’’اَنَا‘‘ کا لفظ سہو کتابت ہے۔(اربعین نمبر ۲۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۳۵۴) ۲ پیر سراج الحق صاحب نعمانیؓ فرماتے ہیں۔’’میں نے ایک روز حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت کُنْتُ کَنْزًا الخ کے معانی میں صوفیا نے اور نیز دیگر علماء نے بہت کچھ زور لگائے آپ فرمائیں کہ اس جملہ مبارک کے کیا معنی ہیں۔فرمایا۔آسان معنی اس کے یہی ہیں کہ جب دنیا میں ضلالت اور گمراہی اور کفر وشرک اور بدعات و رسوماتِ مخترعات پھیل جاتی ہیں اور خدا تعالیٰ کی معرفت اور اُس تک پہنچنے کی راہیں گُم ہوجاتی ہیں اور دل سخت اور خشیت اللہ سے خالی ہوجاتے ہیں تو ایسے وقت اور ایسے زمانہ میں خدا تعالیٰ مخفی خزانہ کی طرح ہوجاتا ہے تو اس کے بعد خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ میں پھر دنیا پرظاہر ہوں اور دنیا مجھے پہچانے تو خدا تعالیٰ کسی اپنے بندہ کو اپنے بندوں میں سے چُن لیتا ہے اور اُس کو خلعتِ خلافت عطا فرماتا ہے اُس کے ذریعہ سے وہ شناخت کیا جاتا ہے۔وہ پسندیدہ اور برگزیدہ بندہ خدا تعالیٰ کی محبت ازسرِنو خالی دلوں میں بھرتا اور اُس کی معرفت کے اسرار لوگوں پر ظاہر کرتا ہے۔ہر ایک زمانہ میں ابتدائے آفرینش سے یہی سنّت اللہ اور یہی طریقۃ اللہ رہا ہے۔بالآخر ہمارے زمانہ میں بھی ایسا ہی ہوا کہ لوگ معرفتِ الٰہی کو کھو بیٹھے