تذکرہ — Page 77
اَلْفِتْنَۃُ ھٰھُنَا۔فَاصْبِرْکَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ۔۱۲ اَلَا اِنَّـھَا فِتْنَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ لِیُحِبَّ حُبًّا جَـمًّا حُبًّا مِّنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِالْاَکْرَمِ عَطَآءً غَیْرَ مَـجْذُ وْذٍ۔۱۱اس جگہ فتنہ ہے پس صبر کر۔جیسے اولُو العزم لوگوں نے صبر کیا ہے۔۱۲خبردار ہو یہ فتنہ خدا کی طرف سے ہے تا وہ ایسی محبت کرے جو کامل محبت ہے۔اُس خدا کی محبت جو نہایت عزت والا اور نہایت بزرگ ہے وہ بخشش جس کا کبھی انقطاع نہیں۔۱۳ شَاتَانِ تُذْ بَـحَانِ وَکُلُّ مَنْ عَلَیْـھَا فَانٍ۔۱۳دو بکریاں؎۱ ذبح کی جائیں گی اور زمین پر کوئی ایسا نہیں جو مرنے سے بچ جائے گا۔یعنی ہریک کے لئے قضاء و قدر درپیش ہے اور موت سے کسی کو خلاصی نہیں … ۱۴ وَلَا تَـھِنُوْا وَلَا تَـحْزَنُوْا۔۱۵اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَ۔ہٗ۔۱۶اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِ۔یْرٌ۔۱۷ وَجِئْنَا بِکَ عَلٰی ھٰٓؤُلَآءِ شَھِیْدًا۔۱۴ اور سست مت ہو اور غم مت کرو۔۱۵کیا خدا اپنے بندہ کو کافی نہیں ہے۔۱۶کیا تو نہیں جانتا کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے۔۱۷اور خدا ان لوگوں پر تجھ کو گواہ لائے گا۔بقیہ حاشیہ۔پہلے اس پر مہر لگاوے اور میرے کفر کی نسبت فتویٰ دیدے اور تمام مسلمانوں میں میرا کافر ہونا شائع کردے۔سو اس فتویٰ اور میاں صاحب مذکور کے مہر سے بارہ برس پہلے یہ کتاب تمام پنجاب اور ہندوستان میں شائع ہوچکی تھی اور مولوی محمد حسین جو بارہ برس کے بعد اوّل المکفّرین بنے، بانی تکفیر کے وہی تھے اور اس آگ کو اپنی شہرت کی و جہ سے تمام ملک میں سلگانے والے میاں نذیر حسین صاحب دہلوی تھے۔اس جگہ سے خدا کا علمِ غیب ثابت ہوتا ہے کہ ابھی اس فتویٰ کا نام ونشان نہ تھا بلکہ مولوی محمد حسین صاحب میری نسبت خادموں کی طرح اپنے تئیں سمجھتے تھے اُس وقت خدا تعالیٰ نے یہ پیشگوئی فرمائی جس کو کچھ بھی حصّہ عقل اور فہم سے ہے وہ سوچے اور سمجھے کہ کیا انسانی طاقتوں میں یہ بات داخل ہوسکتی ہے کہ جو طوفان بارہ برس کے بعد آنے والا تھا جس کا پُر زور سیلاب مولوی محمد حسین جیسے مدعی اخلاص کو درجۂ ضلالت کی طرف کھینچ لے گیا اور نذیر حسین جیسے مخلص کو جو کہتا تھا کہ براہین احمدیہ جیسی اسلام میں کوئی کتاب تالیف نہیں ہوئی اس سیلاب نے دبالیا۔اس طوفان کی پہلے مجھے یا کسی اور کو محض عقلی قرائن سے خبر ہوتی۔سو یہ خالص علم الٰہی ہے جس کو معجزہ کہتے ہیں۔‘‘ (تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۲۱۵، ۲۱۶) ۱ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) یہ پیشگوئی حضرت شہزادہ مولاناسید عبداللطیف صاحب کابلی شہید و مولوی عبدالرحمٰن صاحب کابلی شہید رضی اللہ عنہما کی شہادت سے پوری ہوئی۔تفصیل کے لئے دیکھیے کتاب تذکرۃ الشہادتین۔