تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 79 of 1089

تذکرہ — Page 79

اور پھر فرمایا۔۲۴کہہ میں صرف تمہارے جیسا ایک آدمی ہوں۔مجھ کو یہ وحی ہوتی ہے کہ بجز اللہ تعالیٰ کے اور کوئی تمہارا معبود نہیں۔وہی اکیلا معبود ہے جس کے ساتھ کسی چیز کو شریک کرنا نہیں چاہیے۔۲۵اور تمام خیر اور بھلائی قرآن میں ہے۔بجز اس کے اور کسی جگہ سے بھلائی نہیں مل سکتی ۲۶اور قرآنی حقائق صرف انہیں لوگوں پر کھلتے ہیں جن کو خدائے تعالیٰ اپنے ہاتھ سے صاف اور پاک کرتا ہے ۲۷۔اور میں ایک؎۱ عمر تک تم میں ہی رہتا رہا ہوں۔کیا تم کو عقل نہیں… ۲۸۔قُلْ اِنَّ ھُدَی اللّٰہِ ھُوَالْھُدٰی۔۲۹۔وَاِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَـھْدِیْنِ۔۳۰۔۔رَبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَـمْ مِّنَ السَّمَآءِ۔۳۱۔رَبِّ اِنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِـرْ۔۳۲۔اِیْلِیْ اِیْلِیْ لِمَا سَبَقْتَنِیْ۔۳۳۔اِیْلِیْ اٰوس۔۲۸کہہ ہدایت وہی ہے جو خدا کی ہدایت ہے ۲۹اور میرے ساتھ میرا رب ہے۔عنقریب وہ میرا راہ بقیہ حاشیہ۔صفاتِ الٰہی میں کچھ کا کچھ اپنی طرف سے تصرف کیا۔اسماء اللہ سے غافل ہوگئے۔اُس کی کتابوں اور صحیفوں کو ترک کر بیٹھے۔اُس کے نِدّ اور شریک بنالئے۔پس خدا تعالیٰ پوشیدہ خزانہ کی طرح ہوگیا تو خدا تعالیٰ نے ہمیں اپنی معرفت اور محبت دے کر بھیجا تا کہ دنیا کو راہِ راست پر لگایا جاوے۔پس اسی واسطے ہم تحریر سے، تقریر سے، توجہ سے، دعا سے، اپنے چال چلن سے پر ہیبت پیشگوئیوں اور اسرارِ غیب سے جو خدا نے ہمیں عطا کئے اور معارف و حقائق و دقائق قرآنی سے رات دن لگے ہوئے ہیں اور ہم کیا خدا تعالیٰ نے ہمارے سب کاروبار اور اعضا اور ہاتھ اور زبان اور ہر ایک حرکت و سکون کو اپنے قبضہ میں کر رکھا ہے جس طرح اُس کی مرضی ہوتی ہے وہ ہمیں چلاتا ہے اور ہم اُسی طرح چلتے ہیں۔ہمارا اس میں کچھ اختیار نہیں۔‘‘ (الحکم مورخہ۲۴؍ جون۱۹۰۲ء صفحہ ۱۱) ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’قریباً۱۸۸۴ء میں اللہ تعالیٰ نے مجھے اس وحی سے مشرف فرمایا کہ وَلَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُـمُرًا مِّنْ قَبْلِہٖ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ اوراس میں عالم الغیب خدا نے اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا کہ کوئی مخالف کبھی تیری سوانح پر کوئی داغ نہیں لگاسکے گا چنانچہ اِس وقت تک جو میری عمر قریباً پینسٹھ سال ہے کوئی شخص دور یا نزدیک رہنے والا ہماری گذشتہ سوانح پر کسی قسم کا داغ ثابت نہیں کرسکتا۔بلکہ گذشتہ زندگی کی پاکیزگی کی گواہی اللہ تعالیٰ نے خود مخالفین سے بھی دلوائی ہے جیسا کہ مولوی محمد حسین صاحب نے نہایت پُر زور الفاظ میں اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں کئی بار ہماری اور ہمارے خاندان کی تعریف کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس شخص کی نسبت اور اس کے خاندان کی نسبت مجھ سے زیادہ کوئی واقف نہیں اور پھر انصاف کی پابندی سے بقدر اپنی واقفیت کے تعریفیں کی ہیں۔پس ایک ایسا مخالف جو تکفیر کی بنیاد کا بانی ہے پیشگوئی وَلَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ کا مصدِّق ہے۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۵۹۰)