تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 74 of 1089

تذکرہ — Page 74

کے حق میں فرمایا ہےاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ تو خلق عظیم پر ہے… اور چونکہ اُمت ِ محمدیہ کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہیں اس لئے الہام م بالا میں اِس عاجز کی تشبیہ حضرت موسیٰ سےدی گئی اور یہ تمام برکات حضرت سیّد الرسل کے ہیں جو خداوند کریم اس کی عاجز اُمت کو اپنے کمال لطف اور احسان سے ایسے ایسے مخاطباتِ شریفہ سے یاد فرماتا ہے اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُـحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُـحَمَّدٍ۔‘‘ (براہین احمدیہ حصّہ چہارم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۵۹۹ تا ۶۰۷ حاشیہ در حاشیہ نمبر۳ ) ۱۸۸۳ء ’’پھر بعد اِس کے یہ الہامی عبارت ہے۔۱ وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْا کَمَآ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْٓا اَنُـؤْمِنُ کَمَآ اٰمَنَ السُّفَھَآءُ اَلَآ اِنَّـھُمْ ھُمُ السُّفَھَآءُ وَلٰکِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ۔۲۔وَیُـحِبُّوْنَ اَنْ تُدْ ھِنُوْنَ۔۳۔قُلْ یَـآ اَیُّـھَا الْکٰفِرُوْنَ لَآ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُ۔وْنَ۔۴۔قِیْلَ ارْجِعُوْا اِلَی اللّٰہِ فَلَا تَـرْجِعُوْنَ۔۵۔وَقِیْلَ اسْتَحْوِذُ۔وْا فَلَا تَسْتَحْوِذُ۔وْنَ۔۶۔اَمْ تَسْئَلُھُمْ مِّنْ خَرْجٍ فَھُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَ۔۷ بَلْ اٰتَیْنٰـھُمْ بِالْـحَقِّ فَھُمْ لِلْحَقِّ کَارِھُوْنَ۔۸۔سُبْـحَانَہٗ وَتَعَالٰی عَـمَّا یَصِفُوْنَ۔۹۔اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْٓا اَنْ یَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَھُمْ لَایُفْتَنُوْنَ۔۱۰ یُـحِبُّوْنَ اَنْ یُّـحْمَدُوْا بِـمَا لَمْ یَفْعَلُوْا۔۱۱ وَلَا یَـخْفٰی عَلَی اللّٰہِ خَافِیَۃٌ۔۱۲ وَلَا یَصْلَحُ شَیْءٌ قَبْلَ اِصْلَا حِہٖ۔۱۳۔وَمَنْ رُدَّ مِنْ مَّطْبَعِہٖ فَلَا مَرَدَّ لَہٗ۔۱ اور جب ان کو کہا جائے کہ ایمان لاؤ جیسے لوگ ایمان لائے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم ایسا ہی ایمان لاویں جیسے بیوقوف ایمان لائے ہیں۔خبردار ہو۔وہی بیوقوف ہیں مگر جانتے نہیں۔۲ اور یہ چاہتے ہیں کہ تم اُن سے مداہنہ کرو۔۳کہہ اے کافرو! میں اس چیز کی پرستش نہیں کرتا جس کی تم کرتے ہو۔۴تم کو کہا گیا کہ خدا کی طرف رجوع کرو سو تم رجوع نہیں کرتے۔۵اور تم کو کہا گیا جو تم اپنے نفسوں پر غالب آجاؤ سو تم غالب نہیں آتے۔۶کیا تو اِن لوگوں سے کچھ مزدوری مانگتا ہے۔پس وہ اس تاوان کی و جہ سے حق کو قبول کرنا ایک پہاڑ سمجھتے ہیں۔۷بلکہ ان کو مفت حق دیا جاتاہے اور وہ حق سے کراہت کررہے ہیں۔۸خدائےتعالیٰ ان عیبوں سے پاک وبرتر ہے جو وہ لوگ اس کی ذات پر لگاتے ہیں۔۹کیا یہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بے امتحان کئے صرف زبانی ایمان کے دعویٰ سے چُھوٹ جاویں گے۔۱۰چاہتے ہیں جو ایسے کاموں سے تعریف کئے جائیں جن کو انہوں نے کیا نہیں۔۱۱اور خدائے تعالیٰ سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں۔۱۲اور جب تک وہ کسی شے کی اصلاح نہ کرے اصلاح نہیں ہوسکتی۔۱۳اور جو شخص اس کے مطبع سے ردّ کیا جائے اس کو کوئی واپس نہیں لاسکتا۔