تذکرہ — Page 75
۔لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَ۔لَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ۔۱۵ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ۔۱۶۔وَلَا تُـخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اِنَّـھُمْ مُّغْرَقُوْنَ۔۱۷۔یَـآ اِبْـرَاھِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا۔۱۸۔اِنَّہٗ عَبْدٌ؎۱ غَیْرُ صَالِـحٍ۔۱۹۔اِنَّـمَآ اَنْتَ مُذَکِّـرٌ۔۲۰۔وَمَا اَنْتَ عَلَیْـھِمْ بِـمُسَیْطِرٍ۔۱۴کیا تو اسی غم میں اپنے تئیں ہلاک کردے گا کہ یہ لوگ کیوں ایمان نہیں لاتے۔۱۵جس چیز کا تجھےعلم نہیں اس کے پیچھے مت پڑ۔۱۶ اور اُن لوگوں کے بارے میں جو ظالم ہیں میرے ساتھ مخاطبت مت کر۔وہ غرق کئے جائیں گے۔۱۷اے ابراہیم اس سے کنارہ کر۔۱۸یہ صالح آدمی نہیں۔۱۹تو صرف نصیحت دہندہ ہے۔۲۰اِن پرداروغہ نہیں۔یہ چند آیات جو بطورِ الہام القا ہوئی ہیں بعض خاص لوگو ں کے حق میں ہیں۔‘‘ (براہین احمدیہ حصّہ چہارم۔روحانی خزائن ۱ صفحہ ۶۰۷، ۶۰۸ حاشیہ در حاشیہ نمبر۳ ) ۱۸۸۳ء ’’پھر آگے اس کے یہ الہام ہے۔۱۔وَاسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ۔۲۔وَاتَّـخِذُ وْا؎۲ مِنْ مَّقَامِ اِبْرَاھِیْمَ مُصَلّٰی۔۱اور صبر اور صلوٰۃ کے ساتھ مدد چاہو۔۲اور ابراہیم کے مقام سے نماز کی جگہ پکڑو۔اس جگہ مقامِ ابراہیم سے اطلاق مرضیہ و معاملہ باللہ مراد ہے۔یعنی محبت ِ الٰہیہ اور تفویض اور رضا اور وفا۔یہی حقیقی مقام ابراہیم کا ہے جو امت ِ محمدیہ کو بطور تبعیت و وراثت عطا ہوتا ہے اور جو شخص قلب ِ ابراہیم پر مخلوق ہے اس کی اتباع بھی اسی میں ہے۔۳۔یُظِلُّ رَبُّکَ عَلَیْکَ وَیُغِیْثُکَ وَیَرْحَـمُکَ۔۴۔وَاِنْ لَّمْ یَعْصِمْکَ النَّاسُ فَیَعْصِمُکَ اللّٰہُ مِنْ عِنْدہٖ۔۵۔یَعْصِمُکَ اللّٰہُ مِنْ عِنْدِہٖ وَاِنْ لَّمْ یَعْصِمْکَ النَّاسُ۔۳۔خدائے تعالیٰ اپنی رحمت کا تجھ پر سایہ کرے گا اور نیز تیرا فریاد رس ہوگا اور تجھ پر رحم کرے گا۔۴ اور اگر تمام لوگ تیرے بچانے سے دریغ کریں مگر خدا تجھے بچائے گا۔۵ اور خدا تجھے ضرور اپنی مدد سے بچائے گا اگرچہ ۱ (نوٹ ازحضرت مرزا بشیر احمدؓ) براہین احمدیہ حصّہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۱۱۵ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وحی الٰہی کی دوسری قراءت اِنَّہٗ عَـمَلٌ غَیْرُ صَالِـحٍ ہے۔۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’اِس مقام میں اس کے یہ معنی ہیں کہ یہ ابراہیم جو بھیجاگیا تم اپنی عبادتوں اورعقیدوں کو اس کی طرز پر بجالاؤ اورہرایک امر میں اُس کے نمونہ پر اپنے تئیں بناؤ۔‘‘ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۶۸)