تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 69 of 1089

تذکرہ — Page 69

بھیجنے میں ایک زمانہ تک مجھے بہت استغراق رہا کیونکہ میرا یقین تھا کہ خدا تعالیٰ کی راہیں نہایت دقیق راہیں ہیں وہ بجز وسیلہ نبی کریمؐ کے مل نہیں سکتیں جیسا کہ خدا بھی فرماتا ہے۔وَابْتَغُوْٓا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ۔۱؎ تب ایک مدت کے بعد کشفی حالت میں مَیں نے دیکھا کہ دو۲ سقّے یعنی ماشکی آئے اور ایک اندرونی راستے سے اور ایک بیرونی راہ سے میرے گھر میں داخل ہوئے ہیں اور ان کے کاندھوں پر نور کی مشکیں ہیں اور کہتے ہیں ھٰذَا بِـمَا صَلَّیْتَ عَلٰی مُـحَمَّدٍؐ۔‘‘ ۲؎ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۳۱ حاشیہ) ۱۸۸۳ء ’’پھر بعد اس؎۳کے یہ الہام ہوا۔۱۔اِنَّکَ عَلٰی صِـرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۔۲۔فَاصْدَعْ بِـمَا تُؤْمَرُ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْـجَاھِلِیْنَ۔۱تو سیدھی راہ پر ہے۔۲پس جو حکم کیا جاتا ہے اُس کو کھول کر سنا اور جاہلوں سے کنارہ کر۔۳۔وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ عَلٰی رَجُلٍ مِّنْ قَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ۔۴۔وَ قَالُوْٓا اَنّٰی لَکَ ھٰذَا۔۵۔اِنَّ ھٰذَا لَمَکْرٌ مَّکَرْتُـمُوْہُ فِی الْمَدِ یْنَۃِ۔۶ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْکَ وَھُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ۔۳۔اور کہیں گے کہ کیوں نہیں یہ اُترا کسی بڑے عالم فاضل پر اور؎۴ شہروں میں سے۔۴۔اور کہیں گے کہ یہ مرتبہ تجھ کو کہاں سے ملا۔۵۔یہ تو ایک مکر ہے جو تم نے شہر میں باہم مل کر بنالیا ہے۔۶ تیری طرف دیکھتے ہیں اور نہیں دیکھتے یعنی تو اُنہیں نظر نہیں آتا۔۷۔تَا للّٰہِ لَقَدْ اَرْسَلْنَا اِلٰی اُ مَمٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَزَیَّنَ لَھُمُ الشَّیْطَانُ۔۷ ہمیں اپنی ذات کی قسم ہے کہ ہم نے تجھ سے پہلے اُمت ِ محمدیہ میں کئی اولیاء کامل بھیجے۔پر شیطان نے اُن کے توابع کی راہ کو بگاڑ دیا۔یعنی طرح طرح کی بدعات مخلوط ہوگئیں اور سیدھا قرآنی راہ اُن میں محفوظ نہ رہا۔۸۔قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُـحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُـحْبِبْکُمُ اللّٰہُ۔۹۔وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ یُحْيِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِـھَا۔۱۰۔وَمَنْ کَانَ لِلّٰہِ کَانَ اللّٰہُ لَہٗ۔۱۱۔قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُہٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامٌ شَدِیْدٌ۔۸ کہہ اگر تم خدا سے محبت رکھتے ہو سو میری پیروی کرو۔یعنی اتباع رسول مقبول کرو تا خدا بھی تم سے محبت رکھے ۹ اور یہ بات جان لو کہ اللہ تعالیٰ نئے سرے زمین کو زندہ کرتا ہے ۱۰ اور جو شخص خدا کے لئے ہوجائے خدا ۱ (المائدۃ: ۳۶) ۲ (ترجمہ ازمرتّب) یہ برکات اس درود کی و جہ سے ہیں جو تونے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بھیجا تھا۔۳ یعنی الہام ’’صَلِّ عَلٰی مُـحَمَّدٍ ‘‘ الخ۔(براہین احمدیہ حصہ چہارم روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۵۹۷ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۳ ) (مرزا بشیر احمد) ۴ ’’اور‘‘ سہو کتابت ہے لفظ ’’دو‘‘ ہونا چاہیے بمطابق حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۸۵ (ناشر)