تذکرہ — Page 68
سے محبّت کرنے کا یہ صلہ ہے …اور ایسا ہی الہام م بالا میں جو آلِ رسول پر درود بھیجنے کا حکم ہے سو اِس میں بھی یہ سِرّ ہے کہ افاضہء انوارِالٰہی میں محبّتِ اہلِ بَیت کو بھی نہایت عظیم دخل ہے اورجو شخص حضرتِ احدیّت کے مقرّبین میں داخل ہوتا ہے وہ اِنہیں طیّبین طاہرین کی وراثت پاتا ہے اور تمام علوم ومعارف میں اُن کا وارث ٹھہرتا ہے۔‘‘ (براہین احمدیہ حصّہ چہارم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۵۹۷، ۵۹۸ حاشیہ درحاشیہ نمبر۳) ۱۸۸۳ء ’’اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غُربت اور انکسار اور توکّل اور ایثاراور آیات اور انوار کے رُو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی متشابہ واقع ہوئی ہے گویا ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے یا ایک ہی درخت کے دوپھل ہیں اور بحدّیِ اتحاد ہے کہ نظر کشفی میں نہایت ہی باریک امتیاز ہے اور نیز ظاہری طور پر بھی ایک مشابہت ہے اور وہ یوں کہ مسیح ایک کامل اور عظیم الشان نبی یعنی موسٰی کا تابع اور خادمِ دین تھا اور اس کی انجیل توریت کی فرع ہے اور یہ عاجز بھی اس جلیل الشان نبی کے احقر خادمین میں سے ہے کہ جو سید الرسل اور سب رسولوں کا سرتاج ہے اگر وہ حامد ہیں تو وہ احمد ہے اور اگر وہ محمود ہیں تو وہ محمد ہے۔صلی اللہ علیہ وسلم۔‘‘ (براہین احمدیہ حصّہ چہارم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۵۹۳، ۵۹۴ حاشیہ در حاشیہ نمبر۳) ۱۸۸۳ء ’’ وَ؎۱ مِنْ جُـمْلَتِـھَا اِلْھَامٌ اٰخَرُ خَاطَبَنِیْ رَبِّیْ فِیْہِ وَ قَالَ اِنِّیْ خَلَقْتُکَ مِنْ جَوْھَرِ عِیْسٰی وَ اِنَّکَ وَ عِیْسٰی مِنْ جَـوْھَرٍ وَّاحِدٍ وَکَشَیْ ءٍ وَّاحِدٍ۔‘‘ ؎۲ (حـمامۃ البشریٰ۔روحانی خزائن جلد ۷ صفحہ ۱۹۲) ۱۸۸۳ء (الف) ’’اس مقام پر مجھ کو یاد آیا کہ ایک رات اِس عاجز نے اِس کثرت سے درود شریف پڑھا کہ دل و جان اُس سے معطّر ہوگیا۔اسی رات خواب میں دیکھا کہ آبِ زُلال کی شکل پر نور کی مشکیں اِس عاجز کے مکان میں لئے آتے ہیں اور ایک نے اُن میں سے کہا کہ یہ وہی برکات ہیں جو تُو نے محمدؐ کی طرف بھیجی تھی۔صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم۔‘‘ (براہین احمدیہ حصّہ چہارم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۵۹۸ حاشیہ در حاشیہ نمبر۳) (ب) ’’ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ درود شریف کے پڑھنے میں یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود ۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) اس الہام کو یہاں اس لئے درج کیا گیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسی جگہ حمامۃ البشریٰ میں تحریر فرماتےہیں کہ یہ الہام براہین احمدیہ کی اشاعت سے پہلے کا ہے۔۲ (ترجمہ از مرتّب) اور منجملہ ان کے ایک اور الہام بھی درج ہے جس میں مجھے اللہ مخاطب کرکے کہتا ہے کہ میں نے تجھ کو عیسیٰ کے جوہر سے پیدا کیا ہے اور تُو اور عیسیٰ ایک ہی جوہر سے اور ایک ہی شَے کی مانند ہو۔‘‘