تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 70 of 1089

تذکرہ — Page 70

اُس کے لئے ہوجاتا ہے۔۱۱کہہ اگر میں نے یہ افترا کیا ہے تو میرے پر جرم شدید ہے۔۱۲ اِنَّکَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَکِیْنٌ اَمِیْنٌ۔۱۳ وَاِنَّ عَلَیْکَ رَحْـمَتِیْ فِی الدُّنْیَا وَالدِّیْنِ۔۱۴۔وَاِنَّکَ مِنَ الْمَنْصُوْرِیْنَ۔۱۲ آج تو میرے نزدیک بامرتبہ اور امین ہے ۱۳ اور تیرے پر میری رحمت دنیا اور دین میں ہے ۱۴ اور تو مدد دیا گیا ہے۔۱۵ یَـحْمَدُکَ اللّٰہُ وَیَـمْشِیْ اِلَیْکَ۔۱۵ خدا تیری تعریف کرتا ہے اور تیری طرف چلا آتا ہے۔۱۶ اَلَآ اِنَّ نَصْـرَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ۔۱۶ خبردار ہو خدا کی مدد نزدیک ہے۔۱۷۔سُبْـحَانَ الَّذِیْٓ اَسْـرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا۔۱۷ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندہ کو رات کے وقت میں سیر کرایا یعنی ضلالت اور گمراہی کے زمانہ میں جو رات سے مشابہ ہے مقاماتِ معرفت اور یقین تک لَدُنّی طور سے پہنچایا۔۱۸۔خَلَقَ اٰدَمَ فَاَکْـرَمَہٗ۔۱۸ پیدا کیا آدم کو پس اکرام کیا اُس کا ۱۹ جَرِیُّ اللّٰہِ فِیْ حُلَلِ الْاَ نْبِیَآءِ۔۱۹ جری اللہ نبیوں کے حُلّوں میں۔اس فقرہ الہامی کے یہ معنی ہیں کہ منصب ارشاد اور ہدایت اور موردِ وحی الٰہی ہونے کا دراصل حُلّۂ انبیاء ہے اور اُن کے غیر کو بطور مستعار ملتا ہے اوریہ حُلّۂ انبیاء اُمّتِ محمدیہ کے بعض افراد کو بغرضِ تکمیلِ ناقصین عطا ہوتا ہے اور اُسی کی طرف اشارہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔عُلَمَآءُ اُمَّتِیْ کَاَ۔نْبِیَآءِ بَنِیْٓ اِسْـرَآءِیْلَ۔پس یہ لوگ اگرچہ نبی نہیں پر نبیوں کاکام اُن کے سپرد کیا جاتا ہے۔۲۰ وَکُنْتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَۃٍ فَاَ نْقَذَکُمْ مِّنْـھَا۔۲۰ اور تھے تم ایک گڑھے کے کنارہ پر سو اُس سے تم کو خلاصی بخشی یعنی خلاصی کا سامان عطا فرمایا۔۲۱۔عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یَّرْحَـمَ عَلَیْکُمْ؎۱ وَ اِنْ عُدْتُّمْ عُدْ نَا وَجَعَلْنَا جَھَنَّمَ لِلْکَافِرِیْنَ حَصِیْرًا۔۲۱ خدا ئے تعالیٰ کا ارادہ اِس بات کی طرف متوجہ ہے جو تم پر رحم کرے اور اگر تم نے گناہ اور سرکشی کی طرف ۱ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) حضرت اقدس نے اس الہام کو اربعین نمبر۲ روحانی خزائن جلد ۱۷ کے صفحہ ۳۵۲ پر اور اس کے علاوہ کئی اور مقامات پر بھی بحوالہ براہین احمدیہ اَنْ یَّرْحَـمَکُمْ درج فرمایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عَلٰی کا لفظ سہو کتابت ہے۔