تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 656 of 1089

تذکرہ — Page 656

۴؍ دسمبر۱۹۰۶ء (الف) ’’ اَ کْـرَمَ اللّٰہُ اِکْـرَامًا عَـــجَـبًا۔۱؎ دیکھا کہ میری بیوی نے انگشتری اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَ ہٗ مجھ کو دی ہے۔اور پھر الہام ہوا۔مبارک باد۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۴۲) (ب) ’’ یُکْـرِمُکَ اللّٰہُ اِکْـرَامًا عَـــجِیْبًا۔۲؎ پھر مجھے ایک مہر دی گئی جو میری ہے۔اس میں لکھا ہے۔اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَ ہٗ۔پھر الہام ہوا۔اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَ ہٗ۔۳؎ پھر الہام ہوا۔مبارک باد۔‘‘ (بدر جلد ۲ نمبر ۴۹ مورخہ ۶؍دسمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۳۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۴۲ مورخہ ۱۰؍دسمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۱) ۱۶؍ دسمبر۱۹۰۶ء ’’ بَشِّـرْھُمْ بِـاَ یَّـامِ اللّٰہِ وَ ذَکِّرْھُمْ تَذْکِیْرًا۔‘‘۱؎ بقیہ حاشیہ۔مورخہ ۲۸؍فروری ۱۹۳۵ء صفحہ ۳،۴ میں جہاں مولوی محمد ابراہیم صاحبؓ بقا پوری کی چشم دید روایات درج ہیں ان میں بھی یہ واقعہ تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ذیل میں اس کا خلاصہ درج کیا جاتا ہے۔واقعہ یوں ہے کہ جب حضرت اقدس ؑ نے حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۳۷۸ کے حاشیہ میں سعداللہ لدھیانوی کے بیٹے کو نامَرد لکھا تو خواجہ صاحب چونکہ وکیل تھے اِس لئے بہت گھبرائے کہ اگر سعداللہ نے مقدمہ کردیا تو اس کے بیٹے کو نامَرد ثابت کرنا مشکل ہوجائے گا اِس لئے حضور ؑ کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور اِس حاشیہ کو کاٹ ڈالیں۔حضورؑ نے فرمایا ’’مَیں نے خدا تعالیٰ کی مرضی سے لکھا ہے مَیں اس کو نہیں کاٹوں گا۔‘‘ خواجہ صاحب نے پھر کہا کہ حضور مجھے تو بہت گھبراہٹ رہے گی۔فرمایا ’’ اگر سعداللہ مقدمہ کرے گا تو ہم اقرار کرتے ہیں کہ ہم آپ کو وکیل نہیں بنائیں گے۔‘‘ اِس پر وہ خاموش ہوگئے اور لاہور جاکر مولوی محمد علی صاحب کو خط لکھا کہ رات مجھے نیند نہیں آئی کہ اگر سعداللہ نے دعویٰ کردیا تو اس کو ثابت کرنا مشکل ہے۔چَین کی دو ہی صورتیں ہیں یا حضرت صاحب حاشیہ کاٹ ڈالیں یا سعداللہ مرجائے۔چنانچہ مولوی محمد علی صاحب نے جب حضور ؑ کی خدمت میں عرض کیا تو حضور ؑ نے سُن کر فرمایا ’’ کوئی تعجب نہیں کہ سعد اللہ جلد ہی مَر جائے۔‘‘ چنانچہ بعد میں حضورؑ کو ’’ رُبَّ اَشْعَثَ اَغْبَرَ الخ ‘‘ الہام ہوا اور پھر چند روز کے بعد سعد اللہ کی مَوت کی نسبت تار آگئی اور حضرت نے تتمہ حقیقۃ الوحی میں مندرجہ بالا واقعہ لکھا۔۱ (ترجمہ از ناشر) اللہ تعالیٰ نے عجب تکریم فرمائی۔۲ (ترجمہ) خدا عجیب طور پر تیری بزرگی ظاہر کرے گا۔(بدر مورخہ ۶؍دسمبر ۱۹۰۶ء صفحہ۳) ۳ (ترجمہ) کیا اللہ اپنے بندے کے واسطے کافی نہیں۔(بدر مورخہ ۶؍دسمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۳)