تذکرہ — Page 655
یَّضُـرَّ مِنْ دُ۔وْنِ بَارِیَ الْاَنَـامِ۔وَ لَا اُبَـالِیْ بَعْدَ۔ہٗ تَـھْدِیْدَ الْـحُکَّامِ۔وَنَدْعُوْ رَبَّنَا الَّذِیْ ھُوَ مَنْبَتُ الْفَضْلِ وَ اِنْ لَّمْ یُسْتَجَبْ فَنَرْضٰی بِالْعَیْشِ الرَّذْلِ وَ وَاللّٰہِ اِنَّہٗ لَا یُسَلِّطُ عَلَیَّ ھٰذَا الشَّـرِیْـرَ۔وَ یُنَزِّلُ عَلَیْہِ اٰفَۃً وَ یُنْجِیْ عَبْدَ۔ہُ الْمُسْتَجِیْرَ۔فَـسَـمِــعَ کَلَامِیْ بَعْضُ زُبْدَۃِ الْمُخْلِصِیْنَ الْفَاضِلُ الْـجَلِیْلُ فِیْ عِلْمِ الدِّیْنِ۔اَعْنِیْ مُـحِبَّنَا الْمَوْلَوِیَّ الْـحَکِیْمَ نُـوْرُالدِّ۔یْنِ فَـجَرٰی عَلٰی لِسَانِہٖ حَدِ۔یْثُ رُبَّ اَشْعَثَ اَغْبَـرَ۔وَاطْـمَئَنَّ الْقُلُوْبُ بِقَوْلِیْ وَ قَوْلِہٖ۔وَخَطَّأُوا الْمُحَذِّ۔رَ۔وَاسْتَضْعَفُوْا بِنَآءَ ھَوْلِہٖ۔ثُمَّ دَعَوْتُ عَلٰی سَعْدِ اللّٰہِ اِلٰی ثَلَاثَۃِ اَیَّـامٍ وَ تَـمَنَّیْتُ مَوْتَہٗ مِنْ رَّبٍّ عَلَّامٍ۔فَاَوْحٰی اِلَـیَّ رُبَّ اَشْعَثَ اَغْبَرَ لَوْاَقْسَمَ عَلَی اللّٰہِ لَاَ بَـرَّہٗ یَعْنِیْ اَنَّہٗ تَعَالٰی یُدَافِعُ عَنْکَ شَـرَّہٗ۔فَوَاللّٰہِ مَا مَضٰی عَلَـیَّ اِلَّا لَیَالِیْ حَتّٰی جَآءَنِیْ نَعْیُ مَوْتِہٖ۔فَالْـحَمْدُ لِلہِ عَلٰی مَا ضَـرَبَ الْعَدُ۔وَّ بِسَوْطِہٖ۔‘‘ (الاستفتاء ضمیمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۶۵۷ ، ۶۵۸) بقیہ ترجمہ۔کے سوا کسی کی طاقت نہیں کہ ضَرر پہنچا سکے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے بعد مَیں حکام کی تہدید سے نہیں ڈرتا۔ہاں ہم اللہ تعالیٰ کی جناب میں جو فضل و کرم کا منبع ہے دُعا کریں گے کہ وہ ہمیں ہر ایک مصیبت اور فتنہ سے محفوظ رکھے اور اگر قضاء و قدر میں یہی لکھا ہے کہ یہ مصیبت ہم پر آئے تو ہم اِس ذِلّت والی زندگی پر ہی راضی ہیں اور مَیں اللہ تعالیٰ کی قَسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ اُس شریر انسان کو مجھ پر مسلّط نہیں کرے گااور اُسے کسی آفت میں مبتلا کرکے اپنے اِس بندہ کو جو اس کے حضور پناہ کا طالب ہے اس کے شر سے محفوظ رکھے گا۔جب میری یہ بات میرے یکتا مخلص فاضل ماہر علومِ دین مولوی حکیم نورالدین صاحب نے سُنی تو اُن کی زبان پر حدیث رُبَّ اَشْعَثَ اَغْبَرَ جاری ہوئی اور میرے جواب کو سُن کر اور نیز مولوی صاحب سے یہ حدیث سُن کر جماعت کے لوگوں کو اطمینان حاصل ہوگیا اور انہوں نے اس وکیل کو جس نے مجھے ڈرایا تھا غلطی خوردہ قرار دیا اور اس کی تخویف کو ہیچ سمجھا۔اس کے بعد مَیں نے تین روز تک سعد اللہ کی موت کے لئے خدا تعالیٰ کی جناب میں دعائیں کیں جس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ وحی نازل کی رُبَّ اَشْعَثَ اَغْبَرَ لَوْ اَقْسَمَ عَلَی اللّٰہِ لَاَ بَـرَّہٗ یعنی بعض لوگ جو عوام کی نظروں میں پراگندہ مُو اور غبار آلود ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کے حضور وہ مقام رکھتے ہیں کہ اگر وہ کسی بات کے متعلق قَسم کھالیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قَسم کو ضرور پورا کردیتا ہے اور اس سے مُراد یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کے شر سے تمہیں محفوظ کرے گا۔سو مجھے اللہ تعالیٰ کی قَسم ہے کہ ابھی چند ہی روز گزرے تھے کہ اس کی ہلاکت کی خبر آگئی۔سو اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اُس نے اس دشمن کو اپنے کوڑے کا نشانہ بنایا۔(نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) یہ وکیل خواجہ کمال الدین صاحب تھے چنانچہ الحکم جلد ۳۸ نمبر ۷