تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 657 of 1089

تذکرہ — Page 657

۱۶؍ دسمبر۱۹۰۶ء ’’ بَشِّـرْھُمْ بِـاَ یَّـامِ اللّٰہِ وَ ذَکِّرْھُمْ تَذْکِیْرًا۔‘‘۱؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۳۷۔بدر جلد ۲ نمبر ۵۱ مورخہ ۲۰؍دسمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۳۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۴۲ مورخہ ۱۰؍دسمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۱) ۱۹۰۶ء ۲؎ ’’برتر گمان و وہم سے احمد ؐ کی شان ہے جس کا غلام دیکھو مسیح الزمان ہے‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۲۸۶ حاشیہ) ۱۹۰۶ء ’’مجھے دو بیماریاں مدّت دراز سے تھیں۔ایک شدید دردِ سر۔جس سے مَیں نہایت بے تاب ہوجاتا تھا اور ہَولناک عوارض پیدا ہوجاتے تھے اور یہ مرض قریباً پچیس برس تک دامنگیر رہی اور اس کے ساتھ دَورانِ سر بھی لاحق ہوگیا اور طبیبوں نے لکھا ہے کہ ان عوارض کا آخری نتیجہ مِرگی ہوتی ہے … مَیں دُعا کرتا رہا کہ خدا تعالیٰ اِن امراض سے مجھے محفوظ رکھے۔ایک دفعہ عالَم کشف۳؎ میں مجھے دکھائی دیا کہ ایک بَلا سیاہ رنگ چارپائے کی شکل پر جو بھیڑ کے قد کی مانند اس کا قدتھا اور بڑے بڑے بال تھے اور بڑے بڑے پنجے تھے میرے پر حملہ کرنے لگی اور میرے دِل میں ڈالا گیا کہ یہی صرع ہے تب مَیں نے اپنا دہنا ہاتھ زور سے اس کے سینہ پر مارا اور کہا کہ دُور ہو تیرا مجھ میں حصّہ نہیں۔تب خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ بعد اس کے وہ خطرناک عوارض جاتے رہے اور وہ دردِ شدید بالکل جاتی رہی صرف دَورانِ سر کبھی کبھی ہوتا ہے تا دو زرد رنگ چادروں کی پیشگوئی میں خلل نہ آوے۔دوسری مرض ذیابیطس تخمیناً بیس برس سے ہے جو مجھے لاحق ہے…اور ابھی تک بیس دفعہ کے قریب ہر روز پیشاب آتا ہے اور امتحان سے بول میں شکّر پائی گئی۔ایک دن مجھے خیال آیا کہ ڈاکٹروں کے تجربہ کے رُو سے انجام ذیابیطس کا یا تو نزول الماء ہوتا ہے اور یا کاربنکل یعنی سرطان کا پھوڑا نکلتا ہے جو مُہلک ہوتا ہے۔سو اسی وقت نزول الماء کی نسبت مجھے الہام ہوا۔۱ (ترجمہ) ان کو خوشخبری دے اللہ تعالیٰ کے دنوں کی اور ان کو نصیحت کر نصیحت کرنا۔(بدر مورخہ ۲۰؍دسمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۳) ۲ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) اِس الہام کی تاریخ نزول کا معیّن طور پر پتہ نہیں لگ سکا۔۳ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) چونکہ اِس کشف اور اِن الہامات کے وقت ِ نزول کا معیّن طور پر کوئی پتہ نہیں لگ سکا اِس لئے وقت ِ ذکر کی رعایت سے انہیں حقیقۃ الوحی کے زمانہ میں ہی ذکر کیا جاتا ہے۔