تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 648 of 1089

تذکرہ — Page 648

تعبیر۔عورتوں سے مراد کمزور لوگ ہوسکتے ہیں اور خدا نے قرآن شریف میں اس اُمّت کے نیک بندوں کو بھی فرعون کی عورت اور مریم سے تشبیہ دی ہے اور قلم سے مُراد یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ مولوی محمد علی صاحب کے دِل میں ایسی طاقت پیدا کردے کہ وہ مخالفوں کے َردّ میں اعلیٰ مضامین لکھیں۔وَاللہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔‘‘ (بدر جلد ۲ نمبر۴۶ مورخہ ۱۵ ؍ نومبر ۱۹۰۶صفحہ ۳۔الحکم جلد ۱۰ نمبر۳۹مورخہ ۱۷ ؍ نومبر۱۹۰۶صفحہ ۱ ) نومبر۱۹۰۶ء ’’ رَبِّ لَا تَذَ رْعَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکَافِرِیْنَ دَ یَّـارًا۔‘‘ ۱؎ (بدر جلد ۲ نمبر۴۶ مورخہ ۱۵ ؍ نومبر ۱۹۰۶صفحہ ۳۔الحکم جلد ۱۰ نمبر۳۹مورخہ ۱۷ ؍ نومبر۱۹۰۶صفحہ ۱ ) ۱۳؍ نومبر۱۹۰۶ء ’’ مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَۃٍ اَوْ نُنْسِھَا نَـاْتِ بِـخَیْرٍ مِّنْـھَا اَوْ مِثْلِھَا۔اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِ یْـرٌ۔۲؎ اور گویا مَیں کسی کو کہتا ہوں۔لَا تَـخَفْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا۔‘‘ ۳؎ (بدر جلد ۲ نمبر۴۶ مورخہ ۱۵ ؍ نومبر ۱۹۰۶صفحہ ۳۔الحکم جلد ۱۰ نمبر۳۹مورخہ ۱۷ ؍ نومبر۱۹۰۶صفحہ ۱ ) ۱۹۰۶ء ’’نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ مع اپنے بھائیوں کے سخت مشکلات میں پھنس گئے تھے۔منجملہ ان کے یہ کہ وہ ولی عہد کے ماتحت رعایا کی طرح قرار دیئے گئے تھے اور اُنہوں نے بہت کچھ کوشش کی مگر ناکام رہے۔اور صرف آخری کوشش یہ باقی رہی تھی کہ وہ نواب گورنر جنرل بہادر بالقا بہ سے اپنی داد رسی چاہیں اوراس میں بھی کچھ اُمید نہ تھی کیونکہ اُن کے برخلاف قطعی طور پر حکامِ ماتحت نے فیصلہ کردیا تھا۔اس طوفانِ غم وہم میں جیسا کہ انسان کی فطرت میں داخل ہے اُنہوں نے صرف مجھ سے دُعا کی ہی درخواست نہ کی بلکہ یہ بھی وعدہ کیا کہ اگر خدا تعالیٰ اُن پر رحم کرے اور اس عذاب سے نجات دے تو وہ تین ہزار نقد روپیہ بعد کامیابی کے بِلا توقف ۱ (ترجمہ از مرتّب) اے میرے ربّ زمین پر کافروں میں سے کوئی باشندہ نہ چھوڑ۔۲ (ترجمہ) کسی نشان کو ہم منسوخ نہیں کرتے یا فراموش نہیں کراتے مگر اس سے بہتر یا اس جیسا نشان عطا کرتے ہیں۔کیا تُو نہیں جانتا کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے۔(بدر مورخہ ۱۵؍نومبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۳) ۳ (ترجمہ از مرتّب) مت ڈر اللہ ہمارے ساتھ ہے۔