تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 649 of 1089

تذکرہ — Page 649

اور صرف آخری کوشش یہ باقی رہی تھی کہ وہ نواب گورنر جنرل بہادر بالقا بہ سے اپنی داد رسی چاہیں اوراس میں بھی کچھ اُمید نہ تھی کیونکہ اُن کے برخلاف قطعی طور پر حکامِ ماتحت نے فیصلہ کردیا تھا۔اس طوفانِ غم وہم میں جیسا کہ انسان کی فطرت میں داخل ہے اُنہوں نے صرف مجھ سے دُعا کی ہی درخواست نہ کی بلکہ یہ بھی وعدہ کیا کہ اگر خدا تعالیٰ اُن پر رحم کرے اور اس عذاب سے نجات دے تو وہ تین ہزار نقد روپیہ بعد کامیابی کے بِلا توقف لنگر خانہ کی مدد کے لئے ادا کریں گے چنانچہ بہت سی دُعاؤں کے بعد مجھے یہ الہام ہواکہ۔اے سیف اپنا رُخ اِس طرف پھیر لے ۱؎ تب مَیں نے نواب محمد علی خان صاحب کو اِس وحیِ الٰہی سے اطلاع دی۔بعد اس کے خدا تعالیٰ نے اُن پر رحم کیا۔‘‘ (چشمہ ء ِمعرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۳۳۹ ) ۱۵؍ نومبر۱۹۰۶ء (الف) ’’ ۱۔قادر ہے وہ بارگاہ ٹوٹا کام بناوے بنا بنایا توڑ دے کوئی اس کا بھید نہ پاوے ۲۔کمترین کا بیڑا غرق ہوگیا۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۵۲، ۱۵۱) (ب) ’’آج رات ستائیسویں رمضان المبارک تھی اور اِس پر یہ بھی خیال ہوتا ہے کہ یہ رات شب ِ قدر کی ہوتی ہے۔مَیں نے سوچا کہ زندگی کا کوئی اعتبار نہیں شاید پھر یہ رات نصیب ہو یا نہ ہو۔پس مَیں اُٹھا اور مَیں نے نماز پڑھ کر دعا۲؎ کی۔بعد میں مفصّلہ ذیل الہامات ہوئے۔۱۔قادر ہے وہ بارگاہ ٹوٹا کام بناوے بنا بنایا توڑ دے کوئی اس کا بھید نہ پاوے ۲۔کمترین۳؎ کا بیڑا غرق ہوگیا (یعنی کسی کے قول کی طرف اشارہ ہے) اور یا شاید کمترین سے مراد کوئی شدید مخالف ہے۔۳۔تیری دعا قبول کی گئی۔۱ (نوٹ از ناشر) کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۵۲ اور بدر مورخہ ۱۵ ؍ نومبر ۱۹۰۶صفحہ ۳ اور الحکم مورخہ ۱۷؍نومبر ۱۹۰۶صفحہ ۱ پر اس الہام کے الفاظ یہ ہیں۔’’ اے سیف اپنا رُخ پھیر لے‘‘ ۲ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) یعنی دعا کرنے کے لئے نماز پڑھی اور اُس میں دعا کی۔۳ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) الاستفتاء مشمولہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۷۰۲ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ الہام حضور ؑ کو ۲۰؍ اکتوبر ۱۹۰۶ء میں بھی ہوا تھا۔