تذکرہ — Page 647
۷؍ نومبر۱۹۰۶ء ’’ أَتَقْنَطُ۱؎ مِنْ رَّحْـمَۃِ اللّٰہِ الَّذِیْ یُـرَ بِّیْکُمْ فِی الْاَرْحَامِ۔‘‘۲؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۱۵۶) نومبر۱۹۰۶ء ’’ رؤیا۔دیکھا کہ مَیں ایک گھوڑے پر سوار ہوں اور کسی طرف جارہا ہوں۔جاتے ہوئے آگے بالکل تاریکی ہوگئی تو مَیں واپس آگیا اور میرے ساتھ کچھ عورتیں بھی ہیں۔واپس آتے ہوئے بھی راستہ میں گردو غبار کے سبب بہت سی تاریکی ہوگئی اور گھوڑے کی باگ کو مَیں نے ٹٹول کر ہاتھ میں پکڑا ہوا ہے۔چند قدم چل کر روشنی ہوگئی۔آگے دیکھا کہ ایک بڑا چبوترہ ہے۔اُس پر اُتر پڑا۔وہاں چند ایک لڑکے ہیں۔انہوں نے شور مچایا کہ مولوی عبدالکریم آگئے۔پھر مَیں نے دیکھا کہ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم آرہے ہیں۔اُن کے ساتھ مَیں نے مصَافحہ کیا اور السلام علیکم کہا۔مولوی صاحب مرحوم نے ایک چیز نکال کر مجھے بطور تحفہ دی ہے اور کہا کہ بشپ جو پادریوں کا افسر ہے وہ بھی اسی سے کام چلاتا ہے۔وہ چیز اِس طرح سے ہے جیسا کہ خرگوش ہوتا ہے۔بادامی رنگ۔اس کے آگے ایک بڑی نالی لگی ہوئی ہے اور نالی کے آگے ایک قلم لگا ہوا ہے۔اس نالی کے اندر ہَوا بھر جاتی ہے جس سے وہ قلم بغیر محنت کے بآسانی چلنے لگتا ہے۔مَیں نے کہا کہ مَیں نے تو یہ قلم نہیں منگوایا۔مولوی صاحب نے فرمایا کہ مولوی محمد علی صاحب نے منگوایا ہوگا۔مَیں نے کہا۔اچھا مَیں مولوی صاحب کو دے دوں گا۔اِس کے بعد بیداری ہوگئی۔۱ (ترجمہ) کیا تُو خدا کی رحمت سے نا اُمید ہوتا ہے۔وہ خدا جو تمہیں رِحموں میں پرورش کرتا ہے۔(بدر مورخہ ۸؍نومبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۳) ۲ (نوٹ از ناشر) اس الہام کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔’’ آج رات لنگر خانہ کے اخراجات کی نسبت مَیں قریباً ۱۲ بجے رات کے اپنے گھر کے لوگوں سے بات کررہا تھا کہ اَب خرچ ماہوار ی لنگر خانہ کا پندرہ سَو سے بھی بڑھ گیا ہے۔کیا قرضہ لے لیں؟ پھر خیال آیا کہ قرضہ لینے سے کیا فائدہ۔کیونکہ دو ہزار روپیہ بھی لے لیں تو ایک ماہ میں خرچ ہوجائیں گے۔اس کے بعد مَیں سو گیا۔صُبح نماز کے بعد الہام ہوا۔أَ تَقْنَطُ مِنْ رَّحْـمَۃِ اللّٰہِ الَّذِیْ یُـرَ بِّیْکُمْ فِی الْاَرْحَامِ۔‘‘ (بدر مورخہ ۸؍نومبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۳۔الحکم مورخہ ۱۰؍نومبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۱)