تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 644 of 1089

تذکرہ — Page 644

علم عربی لفظ ہے اور درماؔن فارسی ہے۔اس کے آ گے ۲۲۳ کا ہندسہ ہے معلوم نہیں کہ اس سے کیا مراد ہے۔‘‘ (بدر جلد ۲ نمبر ۴۲ مورخہ ۱۸ ؍ اکتوبر ۱۹۰۶صفحہ ۳۔الحکم جلد ۱۰ نمبر۳۶مورخہ ۱۷ ؍ اکتوبر۱۹۰۶صفحہ ۱) ۱۶؍ اکتوبر۱۹۰۶ء ’’مَیں نے دیکھا کہ کسی کی موت قریب ہے۔یہ متعین نہ ہوا کہ کِس کی مَوت آئی ہے۔تب اس کشفی حالت میں ہی مَیں نے دُعا کی۔الہام ہوا۔اِنَّ الْمَنَایَا لَا تَطِیْشُ سِھَامُھَا یعنی مَوتوں کے تِیر خطا نہیں جاتے تب مَیں نے اسی کشفی حالت میں ہی پھر دُعا کی کہ اے خدا ! تُو ہر چیز پر قادر ہے۔تب الہام ہوا۔اِنَّ الْمَنَایَـا قَدْ تَطِیْشُ سِھَامُھَا۱؎ اِس کے بعد یہ بھی الہام تھا۔رسیدہ بود بلائے وَلے بخیر گذشت۔۲؎ مَیں نہیں کہہ سکتا کہ ہم سب میں سے یہ کس کے حق میں ہے۔وَاللہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔‘‘ (بدر جلد ۲ نمبر ۴۲ مورخہ ۱۸ ؍ اکتوبر ۱۹۰۶صفحہ ۳۔الحکم جلد ۱۰ نمبر۳۶مورخہ ۱۷ ؍ اکتوبر۱۹۰۶صفحہ ۱ ) بقیہ حاشیہ۔سال کے بعد وہ حساب شروع ہوا۔اور دوسری وجہ یہ ہے کہ حضرت ؑ کی وفات ۲۶؍ مئی کو تھی اور اگر آپ ۱۹۰۷ء میں فوت ہوجاتے تو ایک تو چند معاندین ِ سلسلہ شور مچادیتے کہ ہماری پیشگوئی کی میعاد کے اندر فوت ہوئے اور ایک یہ کہ اس وقت ۲۷ تاریخ کو آپ کی وفات ٹھہرتی اِس لئے ضروری تھا کہ آپ کی وفات لِیپ اِیئر ( یعنی جس سال میں فروری کے ۲۹ دن ہوں) میں ہوتی تاکہ پورے ۲۲۳ دن کے بعد ۲۶؍ مئی کو فوت ہوں۔پس صاف ثابت ہوتا ہے کہ آپ کی وفات ۱۹۰۸ء میں ہونی چاہیےتھی جو کہ لِیپ اِیئر ہے نہ کہ ۱۹۰۷ء میں جس میں فروری کے ۲۸ دن ہوتے ہیں اور ۲۲۳ دن ۲۶؍ مئی تک ختم نہیں ہوتے بلکہ ۲۷ کو ختم ہوتے ہیں۔‘‘ (رسالہ تشحیذالاذہان پرچہ ماہ جون و؍ جولائی ۱۹۰۸ء صفحہ ۲۱۶) ۱ (ترجمہ از ناشر) موتوں کے تیر کبھی خطا بھی چلے جاتے ہیں۔۲ (ترجمہ از مرتّب) بَلا سر پر آئی ہوئی تھی لیکن خدا کے فضل سے ٹل گئی۔