تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 643 of 1089

تذکرہ — Page 643

اِنَّ الْمَنَایَـا قَدْ تَطِیْشُ سِھَامُھَا ‘‘۱؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۶۵) ۱۲؍اکتوبر ۱۹۰۶ء روز جمعہ ’’ اس وقت جب کہ میری طبیعت نہایت خراب ہوگئی۔پٹھوں پر کچھ ایسی رقت ظاہر ہوگئی کہ فالج کا خطرہ تھا۔دو گھنٹے کے قریب ایسی حالت رہی۔پھر قریب ساڑھے چار بجے کے یہ الہام ہوا۔جو کہ رقیمہ ۱۲؍ اکتوبر ۱۹۰۶ء ہے۔رسیدہ بود بلائے ولے بخیر گذشت۔‘‘ ۲؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۶۴) اکتوبر ۱۹۰۶ء ’’ عِلْمُ الدَّرْمَان‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۶۲) ۱۵؍ اکتوبر۱۹۰۶ء ’’ خواب میں دیکھا کہ مَیں کچھ لکھ رہا ہوں اور لکھتے لکھتے یہ الفاظ دیکھے۔عِلْمُ۳؎ الدَّرْمَان۲۲۳ ۱ (ترجمہ از ناشر) یعنی موتوں کے تیر کبھی خطا بھی چلے جاتے ہیں۔۲ (ترجمہ از مرتّب) بلا سر پر آئی ہوئی تھی لیکن خدا کے فضل سے ٹل گئی۔۳ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں۔’’عِلم عربی لفظ ہے جس کے معنی ہیں۔جاننا اور درمان ایک فارسی لفظ ہے جس کے معنی ہیں۔علاج۔یعنی علاج کا علم ۱۵؍اکتوبر سے ۲۲۳دن بعد ہوجائے گا۔اب دیکھنا چاہیےکہ ۱۵؍ اکتوبر سے دو سو تئیسواں دن کون سا ہے۔سو حساب لگا کر دیکھو کہ وہ دن ۲۵؍ مئی ۱۹۰۷ء ہے چنانچہ اِس الہام کے مطابق حضرت اقدس ؑ ۲۶؍ مئی کو فوت ہوئے۔اَب ایک اَور غور طلب امر ہے جس کا شاید مخالف کم فہمی سے انکار کردے اور وہ یہ کہ الہام تو ہوا ہے ۱۹۰۶ء کو اور فوت ہوئے ۱۹۰۸ء میں۔تو یہ ایک سال اور ۲۲۳ دن ہوئے۔سویاد رہے کہ اس کی دو وجوہات ہیں۔اوّل تو یہ کہ اس کے ساتھ ہی الہام ہے کہ اِنَّ الْمَنَایَا لَا تَطِیْشُ سِھَامُھَا یعنی مَوتوں کے تِیر خطا نہیں جاتے (اِس سے بھی ثابت ہے کہ یہ ۲۲۳ والا الہام مَوت کے متعلق ہے) اور پھر بعد اس کے الہام ہوا اِنَّـا۴؎ نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُ ھُمْ نَزِیْدُ عُـمُرَکَ (دیکھیے ریویو آف ریلیجنز مورخہ ۲۰ ؍ نومبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۲) یعنی تیری وفات تو ۱۹۰۷ء میں ہی تھی مگر ہم نے اس عمر کو بڑھا دیا چنانچہ پورے ایک سال تک عمر میں ترقّی دی گئی اور ایک ۴ (نوٹ از مولانا عبد اللطیف بہاولپوری) سہو ِ کاتب سے تشحیذ الاذہان جلد ۲ نمبر ۵ مورخہ ۱۰ ؍ مئی ۱۹۰۷ء صفحہ ۲۳ میں لفظ’’اِمَّا‘‘ لکھا گیا ہے۔