تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 549 of 1089

تذکرہ — Page 549

۱۷؍ دسمبر۱۹۰۵ء ’’۱۔قَالَ رَبُّکَ۔اِنَّہٗ نَـازِلٌ مِّنَ السَّمَآءِ مَا یُـرْضِیْکَ۔۲۔رَحْـمَۃً مِّنَّا وَکَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا۔۳۔عَـرَفْتُ نَـافِذًا۔‘‘؎۱ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۳) دسمبر ۱۹۰۵ء ۱۔’’ قَـرُبَ اَجَلُکَ الْمُقَدَّ۔رُ۔وَ لَا نُبْقِیْ لَکَ مِنَ الْمُخْزِیَـاتِ ذِکْـرًا۔قَلَّ مِیْعَادُ رَبِّکَ۔وَ لَا نُبْقِیْ لَکَ مِنَ الْمُخْزِیَـاتِ شَیْئًا۔وَ اِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُ۔ھُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّکَ۔تَـمُوْتُ وَ اَنَـا راضٍ مِّنْکَ۔جَآءَ وَقْتُکَ۔وَنُبْقِیْ لَکَ الْاٰیَـاتِ بَـاھِرَاتٍ جَآءَ وَقْتُکَ وَنُبْقِیْ لَکَ الْاٰیَـاتِ بَیِّنَاتٍ۔قَـرُبَ مَا تُـوْعَدُ۔وْنَ۔وَ اَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَـحَدِّ۔ثْ۔اِنَّہٗ مَنْ یَّـتَّقِ اللّٰہَ وَیَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ۔‘‘ (ترجمہ) ’’ تیری اجل قریب آگئی ہے اور ہم تیرے متعلق ایسی باتوں کا نام و نشان نہیں چھوڑیں گے جن کا ذکر تیری رسوائی کا موجب ہو۔تیری نسبت خدا کی میعاد مقررہ تھوڑی رہ گئی ہے اور ہم ایسے تمام اعتراض دُور اور دفع کردیں گے اور کچھ بھی اُن میں سے باقی نہیں رکھیں گے جن کے بیان سے تیری رُسوائی مطلو ب ہو۔اور ہم اِس بات پر قادر ہیں کہ جو کچھ مخالفوں کی نسبت ہماری پیشگوئیاں ہیں ان میں سے تجھے کچھ دکھاویں یا تجھے وفات دیدیں۔تُو اِس حالت میں فوت ہوگا جو مَیں تجھ سے راضی ہوں گا اور ہم کھلے کھلے نشان تیری تصدیق کے لئے ہمیشہ موجود رکھیں گے جو وعدہ کیا گیا وہ قریب ہے۔اپنے رَبّ کی نعمت کا جو تیرے پر ہوئی لوگوں کے پاس بیان کر۔جو شخص تقویٰ اختیار کرے اور صبر کرے تو خدا ایسے نیکوکاروں کا اَجر ضائع نہیں کرتا۔‘‘ (الوصیّت۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۰۱ ،۳۰۲) ۲۔’’ بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں اُس دن سب پر اُداسی چھا جائے گی۔یہ ہوگا، یہ ہوگا، یہ ہوگا۔بعد اس کے تمہارا واقعہ ہوگا۔تمام حوادث اور عجائباتِ قدرت دکھلانے کے بعد تمہارا حادثہ آئے گا۔‘‘ (الوصیّت۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ۳۰۲) ۱ (ترجمہ از ناشر) ۱۔تیرے ربّ نے فرمایا۔یقیناً وہ چیز جو تجھے خوش کردے گی آسمان سے نازل ہونے والی ہے۔۲۔یہ ہماری طرف سے بطور رحمت ہوگا۔اور یہ بات ہو کر رہنے والی ہے۔۳۔میں نے نافذ ہونے والے امر کو پہچان لیا۔