تذکرہ — Page 550
۳۔’’ حوادث کے بارے میں جو مجھے علم دیا گیا ہے وہ یہی ہے کہ ہر ایک طرف دُنیا میں موت اپنا دامن پھیلائے گی اور زلزلے آئیں گے اور شدّت سے آئیں گے اور قیامت کا نمونہ ہوں گے، اور زمین کو تہ و بالا کردیں گے اور بہتوں کی زندگی تلخ ہوجائے گی۔پھر وہ جو توبہ کریں گے اور گناہوں سے دست کش ہوجائیں گے خدا اُن پر رحم کرے گا۔‘‘ (الوصیّت۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۰۲ ،۳۰۳) ۴۔’’ خدا نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ تُو میری طرف سے نذیر ہے۔مَیں نے تجھے بھیجا تا مجرم نیکوکاروں سے الگ کئے جائیں۔‘‘ (الوصیّت۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ۳۰۳) ۵۔’’ خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ مَیں تیری جماعت کے لئے تیری ہی ذرّیت سے ایک شخص کو قائم کروں گا اور اس کو اپنے قرب اور وحی سے مخصوص کروں گا اور اُس کے ذریعہ سے حق ترقی کرے گا اور بہت سے لوگ سچائی کو قبول کریں گے۔‘‘ (الوصیّت۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ۳۰۶ حاشیہ) ۶۔’’ خدا نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ تقویٰ ایک ایسا درخت ہے جس کو دل میں لگانا چاہیے۔‘‘ (الوصیّت۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ۳۰۷ ) ۷۔’’ خدا نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ مَیں اپنی جماعت کو اطلاع دوں کہ جو لوگ ایمان لائے ایسا ایمان جو اُس کے ساتھ دنیا کی ملونی نہیں اور وہ ایمان نفاق یا بزدلی سے آلودہ نہیں اور وہ ایمان اطاعت کے کسی درجہ سے محروم نہیں ایسے لوگ خدا کے پسندیدہ لوگ ہیں اور خدا فرماتا ہے کہ وہی ہیں جن کا قدم صدق کا قدم ہے۔‘‘ (الوصیّت۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ۳۰۹ ) ۸۔’’ خدا نے فرمایا زَلْزَلَۃُ السَّاعَۃِ یعنی وہ زلزلہ قیامت کا نمونہ ہوگا اور پھر فرمایا لَکَ نُرِیْ اٰیٰتٍ وَّنَـھْدِ مُ مَایَعْمُرُوْنَ۔یعنی تیرے لئے ہم نشان دکھلائیں گے اور جو عمارتیں بناتے جائیں گے ہم ان کو گراتے جائیں گے اور پھر فرمایا ’’بھونچال آیا اور شدّت سے آیا۔زمین تہ و بالا کردی۔‘‘ (الوصیّت۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ۳۱۴ ، ۳۱۵ )