تذکرہ — Page 548
(ترجمہ) ۲۔بہ تحقیق میرا ربّ میرے ساتھ ہے وہ مجھے راہ بتلائے گا۔(براہین احمدیہ حصہ چہارم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۶۶۳ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۴) ۱۳؍ دسمبر ۱۹۰۵ء ’’ کَــبُرَتْ فِتْنَۃٌ۔‘‘ ؎۱ ( بدر جلد ۱ نمبر۳۹ مورخہ۱۵؍ دسمبر ۱۹۰۵ء صفحہ۲ و الحکم جلد ۹ نمبر۴۴ مورخہ۱۷؍ دسمبر۱۹۰۵ء صفحہ۴) ۱۴؍دسمبر ۱۹۰۵ء ’’ ۱۔جَآءَ؎۲ وَقْتُکَ وَنُبْقِیْ لَکَ الْاٰیَـاتِ بَاھِرَاتٍ۔۲۔قَرُبَ وَقْتُکَ وَنُبْقِیْ لَکَ الْاٰیَـاتِ بَیِّنَاتٍ۔‘‘؎۳ ( بدر جلد ۱ نمبر۳۹ مورخہ۱۵؍ دسمبر ۱۹۰۵ء صفحہ۲۔الحکم جلد ۹ نمبر۴۴ مورخہ۱۷؍ دسمبر۱۹۰۵ء صفحہ۴) ۱۶؍ دسمبر۱۹۰۵ء ’’۱۔قَالَ رَبُّکَ اِنَّہٗ نَـازِلٌ مِّنَ السَّمَآءِ مَا یُـرْضِیْکَ۔۲۔رَحْـمَۃً مِّنَّا وَکَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا۔قَـرُبَ مَا تُـوْعَدُ۔وْنَ۔اَمَرْتُ نَـافِذًا۔‘‘۴؎ ( بدر جلد ۱ نمبر۳۹ مورخہ۱۵؍ دسمبر ۱۹۰۵ء صفحہ۲۔الحکم جلد ۹ نمبر۴۴ مورخہ۱۷؍ دسمبر۱۹۰۵ء صفحہ۴) ۱ (ترجمہ) فتنہ بڑا ہوگیا۔(بدر مورخہ۱۵؍ دسمبر ۱۹۰۵ء صفحہ۲) ۲ (ترجمہ) تیرا وقت آگیا اور ہم تیرے واسطے روشن نشان باقی رکھیں گے۔تیرا وقت قریب آگیا اور ہم تیرے واسطے کھلے نشان باقی رکھیں گے۔(بدر مورخہ۱۵؍ دسمبر ۱۹۰۵ء صفحہ۲) ۳ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔’’اِن الہامات میں الفاظ بَاھِرَات، بَیِّنَات صفت کے طور پر نہیں آئے بلکہ حال کے طور پر آئے ہیں اور دوام کا فائدہ دیتے ہیں جس سے ظاہر ہے کہ چمکتے ہوئے اور کھلے نشانات اِس سلسلہ کی صداقت کے واسطے ہمیشہ قائم رہیں گے۔یہ خدا تعالیٰ کے لطف، مدارات اور احسان کا ایک بڑا نمونہ ہے اور اس میں بڑی خوشی ہے۔اللہ تعالیٰ کے الفاظ شوکت کے ساتھ تسلّی دیتے ہیں کہ تم تردّد نہ کرو۔اِس سلسلہ کے قیام کے اصل مقصد کو ہم پورا کردیں گے۔ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ باہرات اور بیّنات کیا ہیں مگر ایک بڑے شکر اور سجدہ کا مقام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی ایک عظیم الشان بشارت نازل فرمائی۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اِس سلسلہ کی تائید میں ایسے کام کرے گا جن سے بہت تبدیلی ہوگی اور دنیا پر ایک عظیم اثر پڑے گا۔‘‘ ( بدر مورخہ۱۵؍ دسمبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۲۔الحکم مورخہ۱۷؍ دسمبر۱۹۰۵ء صفحہ۴) ۴ (ترجمہ) ۱۔کہا تیرے ربّ نے تحقیق وہ نازل کرنے والا ہے آسمان سے وہ امر جس سے تو خوش ہوجائے گا۔یہ رحمت ہے ہماری طرف سے اور یہی ابتدا سے مقرر اور فیصلہ شدہ امر ہے۔قریب ہے وہ شے جس کا تم وعدہ دیئے گئے ہو۔۲۔مَیں نے یہ حکم نافذ کردیا ہے یعنی اٹل ہے۔(بدر مورخہ ۱۵؍دسمبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۲)