تذکرہ — Page 513
سے مُردار خوار جانور لَم ڈھینگ ہیں اور پاس ہی ایک مُردار پڑا ہوا ہے۔اِس رؤیاکے بعد اس جگہ کو بدل دیا۔وہ معاً اچھا ہوگیا۔پہلے اس کے متعلق الہام ہوا تھا۔سَلَامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ۔‘‘ ؎۱ (الحکم ۲؎جلد ۹ نمبر۱۸ مورخہ۲۴؍ مئی ۱۹۰۵ء صفحہ۱) ۱۶؍مئی ۱۹۰۵ء ’’ ایک عورت کو دیکھا کہ میرے دروازہ کے آگے باہر آکر بیٹھ گئی ہے مِقراض سے تمام سر کے بال کٹے ہوئے ہیں اور ایک میلی سی پگڑی سر پر لپیٹی ہوئی ہے میں نے اس کے دیکھنے سے بہت کراہت کی اور میں اس مکان سے باہر کو بھاگا اور پگڑی ساتھ لے لی کہ نیچے جا کر پہن لوں گا اور جب میں اس کے مقابل پر ہو کر گزرنے لگا تو میں نے کہا۔لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ۔؎۳ اور نیچے جا کر پگڑی لپیٹتا تھا اور ڈرتا تھا کہ وہ آ نہ جاوے۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۴۴) ۲۰؍ مئی۱۹۰۵ء صَدَّ قْنَا الرُّؤْیَـا اِنَّـا کَذَالِکَ نَـجْزِی الْمُتَصَدِّ قِیْنَ۔‘‘ ۴؎ (الحکم جلد ۹ نمبر ۱۱۸ مورخہ ۲۴؍مئی ۱۹۰۵ء صفحہ ۱) ۲۲؍ مئی۱۹۰۵ء ’’ اسی پیشگوئی کے متعلق جو زلزلہ ثانیہ کی نسبت شائع ہوچکی ہے۔آج ۲۲؍مئی ۱۹۰۵ء کو بوقت پانچ بجے صبح خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ وحی ہوئی۔۱ (نوٹ از مولانا عبد اللطیف بہاولپوری) حضرت میر صاحب ؓ نے اس کے بعد ۳۹ سال حیات پاکر بتاریخ ۱۷ ؍ مارچ ۱۹۴۴ء وفات پائی اور عجیب قدرت ِ الٰہی ہے کہ آخری وقت میں جبکہ سُورۂ یٰسٓ آپ پر پڑھی جارہی تھی جب پڑھنے والے نے آیت’’سَلَامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبِّ رَّحِیْمٍ‘‘ کی تلاوت کی تو آپ کی رُوح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی گویا آخری لمحاتِ حیات میں اِس الہامِ رَبّانی کے سننے کی منتظر تھی۔۲ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۱۸؍مئی ۱۹۰۶ء میں اس رؤیا کے درج ذیل الفاظ ہیں۔’’ ایک جگہ مردار پڑے ہیں اور لم ڈھینگ مردار خور جانور بھی جمع ہیں۔ہم وہاں سے چلے آئے۔‘‘ ۳ (ترجمہ از مرتّب) جھوٹوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔۴ (ترجمہ) یعنی زلزلہ کی نسبت تیرے دیکھے ہوئے کو سچا کرکے دکھلا دیا اور اسی طرح ہم صدقہ دینے والوں کو جزا دیتے ہیں۔(بدر مورخہ ۱۸؍مئی ۱۹۰۵ء صفحہ ۵)