تذکرہ — Page 514
صَدَّ قْنَا الرُّؤْیَـا اِنَّـا کَذَالِکَ نَـجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ۔‘‘ (بدر جلد ۱ نمبر۷ مورخہ۱۸؍ مئی ۱۹۰۵ء صفحہ۵) ۲۳؍ مئی۱۹۰۵ء ’’ ۱۔زمین تہ و بالا کردی۔۲۔لنگر اُٹھا دو۔۳۔اِنِّیْ مَعَ الْاَفْوَاجِ اٰتِیْکَ بَغْتَۃً۔اُرِیْدُ مَا تُـرِیْدُ وْنَ۔‘‘۱؎ (کاپی الہامات۲؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۴۳) ۲۴؍ مئی۱۹۰۵ء ’’رؤیامیں دیکھا کہ زینب نام ایک خادمہ لڑکی ساتھ ہے اور اس کنوئیں؎۳ کی طرف جو باغ کے جنوبی مغربی کونے پر ہے، میں گیا ہوں تو کہتا ہوں کہ ایسے کنوئیں سے دُور رہنا چاہیے۔زلزلہ کے وقت ایسے کنوئیں خطرناک ہوتے ہیں۔ایسا نہ ہو کہ زمین کے اندر یہ کنواں گر پڑے۔گویا زلزلہ کے سبب کنوئیں کے زیروبالا ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔‘‘ (الحکم۴؎ جلد ۹ نمبر ۱۸ مورخہ۲۴ ؍مئی ۱۹۰۵ء صفحہ۱) ۲۶؍مئی ۱۹۰۵ء (الف) ’’الہام۔۱۔شَـرُّ الَّذِ یْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْـھِمْ۔۵؎ ۲۔میں ان کو سزا دوں گا۔۳۔میں اس عورت کو سزا دوں گا۔‘‘ (کاپی الہامات۶؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۴۴) ۱ (ترجمہ از مرتّب) ۳۔مَیں اپنی فوجوں کے ساتھ تیرے پاس اچانک آؤں گا۔میں وہی چاہتا ہوں جو تم چاہتے ہو۔(نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ ۲۴؍ مئی ۱۹۰۵ء صفحہ ۱ اور بدر مورخہ ۲۵؍ مئی ۱۹۰۵ء صفحہ ۲ پر الہام ’’ اُرِیْدُ مَا تُـرِیْدُ وْنَ‘‘ مورخہ ۲۵؍مئی ۱۹۰۵ء کے تحت مندرج ہے۔۲ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۱۸؍مئی ۱۹۰۵ء صفحہ ۵ والحکم مورخہ ۲۴ ؍مئی ۱۹۰۵ء صفحہ ۱ میں یہ الہامات ترتیب کے اختلاف سے درج ہیں۔نیز الہام ’’ اُرِیْدُ مَا تُـرِیْدُ وْنَ‘‘ درج نہیں۔۳ یہ کنواں اب مٹی بھر کر بند کردیا گیا ہے۔(شمس) ۴ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۱۸؍مئی ۱۹۰۵ء صفحہ ۱ میں یہی رؤیا الفاظ کی معمولی تبدیلی سے درج ہے۔۵ (ترجمہ) ۱۔شرارت ان لوگوں کی جن پر تُو نے انعام کیا۔( بدر مورخہ۲۵؍ مئی ۱۹۰۵ء صفحہ۲) ۶ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۲۵ مئی ۱۹۰۵ء صفحہ ۲ میں ان الہامات سے متعلق تحریر ہے کہ ’’فرمایا۔گھر میں طبیعت علیل تھی۔بہت سر درد، بخار اور کھانسی بھی تھی۔لوگوں کے لئے ابتلاء کا خوف ہوتا ہے۔مَیں نے رات بہت دعا کی (شیخ رحمت اللہ صاحب کو مخاطب کرکے) آپ کے لئے بھی دعا کی تھی۔پہلے تو ایک مشتبہ سا الہام ہوا۔