تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 512 of 1089

تذکرہ — Page 512

۱۰؍مئی۱۹۰۵ء ’’ کیا عذاب کا معاملہ درست ہے۔اگر درست ہے تو کس حد تک۔‘‘ ( بدر جلد ۱ نمبر۶ مورخہ ۱۱ ؍مئی ۱۹۰۵ء صفحہ۱۔الحکم جلد ۹ نمبر ۱۷ مورخہ۱۷ ؍مئی ۱۹۰۵ء صفحہ۱) ۱۳؍ مئی۱۹۰۵ء ’’خواب میں دیکھا کہ جیسا ہم ایک عدالت میں ہیں اور ایک مقدمہ ہے۔شبہ گزرتا ہے کہ مجسٹریٹ ایک شخص ڈپٹی قائم علی ہے اور اس کا سر رشتہ دار ہمارے بھائی غلام قادر صاحب مرحوم ہیں اور ہم تینوں ایک ہی جگہ بیٹھے ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا ہم مدعی ہیں اور مدعا علیہ کو بلوانا ہے۔مجسٹریٹ نے سررشتہ دار کے کان میں کچھ کہا جس کو ہم نے بھی سن لیا ہے۔وہ کہتا ہے کہ یہ روپے طلبانہ داخل کردیں اور فریق ثانی کو بلایا جاوے۔ہم نے جیب سے پچیس روپے دے دیئے اور فریق مخالف کو طلب کیا گیا۔۱؎ فرمایا۔قائم علی میں ’’علی‘‘ خدا کا نام ہے اور اس سے مراد علو مرتبہ اور غلام قادر سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے کچھ کام کرنا چاہتا ہے اور طلبانہ سے مراد کچھ ابتلاء اور تکلیف ہے۔یعنی قدرت ِ خداوندی سے کامیابی ضرور ہماری ہے لیکن اُس میں کچھ درمیانی تکلیف مقدر ہے جیسا کہ ہمیشہ انبیاء اور اولیاء اللہ کے ساتھ ہوا کرتا ہے۔‘‘ (بدر جلد ۱ نمبر۶ مورخہ ۱۱؍مئی ۱۹۰۵ء صفحہ۱) ۱۴؍ مئی۱۹۰۵ء ’’میاں محمد اسحٰق،۲؎حضرت میر ناصر نواب صاحب کا چھوٹا صاحبزادہ بیمار تھا۔ڈاکٹر صاحب کی رائے میں حالت اچھی نہ تھی۔فرمایا۔مَیں نے دعا کی اور دعا کی اصل وجہ تو شماتت ِ اعدا تھی۔ورنہ اولاد ہو یا کوئی اَور عزیز۔موت فوت تو ساتھ ہی ہے۔غرض جب مَیں دعا کررہا تھا تو یہ الہام ہوا۔۱۔سَلَامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ۔؎۳ ۲۔پر خدا کا رحم ہے، کوئی بھی اس سے ڈر نہیں۔‘‘ (الحکم جلد ۹ نمبر ۱۷ مورخہ۱۷ ؍مئی ۱۹۰۵ء صفحہ۱) مئی۱۹۰۵ء ’’۲۴مئی کو بیان کیا کہ کئی روز ہوئے جب اسحٰق بیمار تھا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ بہت (نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ ۱۷؍مئی ۱۹۰۵ء صفحہ ۱ میں معمولی لفظی تبدیلی سے خواب تو درج ہے مگر تعبیر درج نہیں۔۲ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۱۱؍مئی ۱۹۰۵ء صفحہ ۱ میں ۱۷؍مئی ۱۹۰۵ء کے تحت اس الہام کے بارہ میں یہ الفاظ ہیں۔’’فرمایا چند روز ہوئے ہم نے خواب میں دیکھا کہ میاں محمود احمد اور میاں محمد اسحٰق بیمار ہیں ان کے واسطے دعا کرتے تھے۔الہام ہوا۔‘‘ ۳ (ترجمہ) سلامتی ہے یہ ربّ رحیم نے فرمایا۔(حقیقۃ المہدی۔روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۴۴۶)