تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 463 of 1089

تذکرہ — Page 463

آمین کہہ دیا۔‘‘ (کاپی الہامات۱؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۱۹) ۲۲؍ نومبر۱۹۰۳ء ’’یکم رمضان ۱۳۲۱ھ مَا اَحْسَنَ شَانَکَ؎۲۔سخت بیماری کے وقت دعا کی گئی تھی۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۹، ۲۰) ۲۳؍ نومبر۱۹۰۳ء ’’۲؍ رمضان میں مَیں نے دیکھا کہ سلطان احمد کی تائی مسماۃ حُرمت بی بی ایک مکان پر جو سِکھوں کے دھرم سالہ سے مشابہ ہے میرے پاس آئی اور لڑائی کا ارادہ رکھتی ہے اور کھڑی ہوکر میری طرف ایک سوٹا چلایا جو سیاہ رنگ کا تھا۔مَیں نے اپنی سفید سوٹی سے اس کو روک دیا۔بعد اس کے مَیں نے اس کو کہا کہ اگر مَیں نفسانی آدمی ہوں تو تم مجھے فنا کرسکتی ہو لیکن اگر مَیں نفسانی آدمی نہیں تو تم مجھے فنا نہیں کرسکتی۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۹) ۲۶؍ نومبر۱۹۰۳ء ۱۔’’۔میری فتح ہوئی میرا غلبہ ہوا۔۲۔۱۔۔اِنِّیْ اُمِرْتُ لِلرَّحْـمٰنِ فَاْتُوْنِیْ اَجْـمَعِیْنَ۔۲۔اِنِّیْ اُمِّرْتُ مِنَ الرَّحْـمٰنِ فَاْتُوْنِیْ اَجْـمَعِیْنَ۔۳۔اِنِّیْ اُمِّرْتُ مِنَ الرَّحْـمٰنِ فَاْتُوْنِیْ اَجْـمَعِیْنَ۔‘‘۳؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۹) ۱ (نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ ۱۷، ۲۴؍دسمبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵ اور البدر مورخہ ۱۶؍دسمبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۷۴ میں یہ رؤیا یوں درج ہے۔’’مَیں ایک قبر پر بیٹھا ہوں۔صاحب ِ قبر میرے سامنے بیٹھا ہے۔میرے دل میں خیال آیا کہ آج بہت سی دعائیں امورِ ضروری کے متعلق مانگ لوں اور یہ شخص آمین کہتا جاوے۔آخر مَیں نے دعائیں مانگنی شروع کیں جن میں سے بعض دعائیں یاد ہیں اور بعض بھول گئیں۔ہر ایک دعا پر وہ شخص بڑی شرح صدر سے آمین کہتا تھا۔ایک دعا یہ ہے کہ الٰہی ! میرے سلسلے کو ترقی ہو اور تیری نصرت اور تائید اس کے شاملِ حال ہو۔اور بعض دعائیں اپنے دوستوں کے حق میں تھیں۔اتنے میں خیال آیا کہ یہ دعا بھی مانگ لوں کہ میری عمر ۹۵سال ہوجاوے۔مَیں نے دعا کی اُس نے آمین نہ کہی۔مَیں نے وجہ پوچھی وہ خاموش ہورہا۔پھر مَیں نے اُس سے سخت تکرار اور اصرار شروع کیا یہاں تک کہ اس سے ہاتھ پائی کرتا تھا۔بہت عرصہ کے بعد اُس نے کہا اچھا دعا کرو مَیں آمین کہوں گا۔چنانچہ مَیں نے دعا کی کہ الٰہی میری عمر ۹۵ برس کی ہوجاوے۔اس نے آمین کہی۔مَیں نے اس سے کہا کہ ہر ایک دعا پر تو شرح صَدر سے آمین کہتا تھا اِس دعا پر کیا ہوگیا۔اُس نے ایک دفتر عُذروں کا بیان کیا کہ یہ وجہ تھی فلاں وجہ تھی جو میرے ذہن سے جاتا رہا مگر مفہوم بعض عُذروں کا یہ تھا کہ گویا وہ کہتا ہے کہ جب ہم کسی امر کی نسبت آمین کہتے ہیں تو ہماری ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے۔‘‘ ۲ (ترجمہ از مرتّب) تیراحال کیسا اچھا ہے۔۳ (ترجمہ از ناشر) ۱۔مَیں خدائے رحمٰن کی طرف سے مامور ہوں پس تم سب میرے پاس آؤ۔۲۔مَیں خدائے رحمٰن کی طرف سے امیر بنایا گیا ہوں پس تم سب میرے پاس آؤ۔۳۔مَیں خدائے رحمٰن کی طرف سے امیر بنایا گیا ہوں پس تم سب میرے پاس آؤ۔