تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 462 of 1089

تذکرہ — Page 462

عبدالرحیم ظاہر ہوئے اور اگرچہ آج کی تاریخ سے ۲؍نومبر ۱۹۰۳ء تک بباعث شدّتِ احتراق بولنے پر قادر نہیں ہوا صرف ہاں ہوں کرتا ہے لیکن بیماری نے چھوڑ دیا۔فَالْـحَمْدُ لِلہِ عَلٰی ذٰلِکَ۔(کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۱۸) ۲۵؍ اکتوبر۱۹۰۳ء ’’۱۔اِنِّیْ اُنَوِّرُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ۔۲۔ظَفَرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ فَتْحٌ مُّبِیْنٌ۔۳۔ظَفَرٌ وَّفَتْحٌ مِّنَ اللّٰہِ۔۴۔فخر احمد۔۵۔اِنِّیْ نَذَ رْتُ لِلرَّحْـمٰنِ صَوْمًا۔‘‘؎۱ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۸) ۱۹۰۳ء (قریبا ً) ’’عرصہ قریباً تین سال کا ہوا ہے کہ صبح کے وقت کشفی طور پر مجھے دکھایا گیا کہ مبارک احمد سخت مبہُوت اور بد حواس ہوکر میرے پاس دوڑا آیا ہے اور نہایت بے قرار ہے اور حواس اُڑے ہوئے ہیں اور کہتا ہے کہ ابّا پانی۔یعنی مجھے پانی دو… اِس کے بعد اُسی وقت ہم باغ میں گئے۔اور قریباً آٹھ بجے صبح کا وقت تھا اور مبارک احمد بھی ساتھ تھا اور مبارک احمد کئی دوسرے چھوٹے بچوں کے ساتھ باغ کے ایک گوشے میں کھیلتا تھا اور عمر قریباًچار برس کی تھی۔اُس وقت مَیں ایک درخت کے نیچے کھڑا تھا۔مَیں نے دیکھا کہ مبارک احمد زور سے میری طرف دوڑتا چلا آتا ہے اور سخت بدحواس ہورہا ہے۔میرے سامنے آکر اتنا اُس کے منہ سے نکلا کہ ابّا پانی۔بعد اس کے نیم بیہوش کی طرح ہوگیا اور وہاں سے کنواں قریباً پچاس قدم کے فاصلہ پر تھا۔مَیں نے اُس کو گود میں اُٹھا لیا اور جہاں تک مجھ سے ہوسکا مَیں تیز قدم اُٹھا کر اور دَوڑ کر کنوئیں تک پہنچا اور اُس کے منہ میں پانی ڈالا۔جب اُس کو ہوش آئی اور کچھ آرام آیا تو مَیں نے اُس سے اِس حادثہ کا سبب دریافت کیا تو اُس نے کہا کہ بعض بچوں کے کہنے سے مَیں نے بہت سا پِسا ہوا نمک پھانک لیا اور دماغ پر بخار چڑھ گئے اور سانس رُک گیا اور گلا گھونٹا گیا۔پس اِس طرح پر خدا نے اُ س کو شفا دی اور کشفی پیشگوئی پوری کی۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۳۹۹، ۴۰۰) ۲۲؍ نومبر۱۹۰۳ء ’’یکم رمضان ۱۳۲۱ھ موافق ۲۲؍نومبر ۱۹۰۳ء خواب میں مَیں نے دیکھا کہ مَیں ایک قبر پر ہوں، صاحبِ قبر زندہ ہوگیا۔مَیں اُس کو کہتا ہوں کہ تم آمین کرو مَیں دعا کرتا ہوں تب میںنے کئی دعائیں کیں اور سب کے آخر میں نے اُس کو کہا کہ دعا کرو کہ میری عمر پچانویں ۹۵ برس کی ہو تب اس نے آمین کرنے سے خاموشی اختیار کی اس پر میں نے بہت اصرار کیا اور اس کو پکڑ کر جھنجوڑا اور ہلایا بہت اصرار کے بعد اس نے ۱ (ترجمہ از مرتّب) ۱۔مَیں روشن کروں گا ہر اس شخص کو جو اِس گھر میں ہے۔۲۔خدا کی طرف سے ظفر اور کھلی کھلی فتح۔۳۔خدا کی طرف سے ظفر اور فتح۔۴۔احمدؔ کا فخر۔۵۔مَیں نے خدائے رحمٰن کے لئے روزہ کی منت مانی۔