تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 433 of 1089

تذکرہ — Page 433

۱۹۰۳ء ’’ فرمایا کہ مَیں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فیوض عجیب نُوری شکل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جاتے ہیں اور پھر وہاں جاکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ میں جذب ہوجاتے ہیں اور وہاں سے نکل کر اُن کی لا انتہا نالیاں ہوتی ہیں اور بقدر حصّہ رسدی ہر حق دار کو پہنچتی ہیں۔‘‘ (الحکم جلد۷ نمبر۸ مورخہ ۲۸؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ۷) یکم مارچ ۱۹۰۳ء ’’ صبح کی سیر(کے وقت) نواب؎۱صاحب کو مخاطب کرکے فرمایا کہ آج رات ایک کشف میں آپ کی تصویر ہمارے سامنے آئی اور اتنا لفظ الہام ہوا۔حُـــجَّـــۃُ اللہِ یہ امر کوئی ذاتی معاملات سے تعلق نہیں رکھتا۔اِس کے متعلق یوں تفہیم ہوئی کہ چونکہ آپ اپنی برادری اور قوم میں سے اور سوسائٹی میں سے الگ ہوکر آئے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام حُـجّۃ اللہ رکھا یعنی آپ اُن پر حجّت ہوں گے۔قیامت کے دن اُن کو کہا جاوے گا کہ فلاں شخص نے تم سے نکل کر اس صداقت کو پرکھا اور مانا تم نے کیوں ایسا نہ کیا۔یہ بھی تم میں سے ہی تھا اور تمہاری طرح کا ہی انسان تھا۔چونکہ خدا تعالیٰ نے آپ کا نام حُـجّۃ اللہ رکھا آپ کو بھی چاہیےکہ آپ اُن لوگوں پر تحریر سے، تقریر سے، ہر طرح سے حجّت پُوری کردیں۔‘‘ (الحکم جلد۷ نمبر۹ مورخہ ۱۰؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ۱۱) ۱۹۰۳ء ’’ آج بوقت چار بجے صبح کو مَیں نے ایک خواب دیکھا۔مَیں حیرت میں ہوں کہ اس کی کیا تعبیر ہے۔مَیں نے آپ؎۲کی بیگم صاحبہ عزیزہ سعیدہ امۃ الحمید بیگم کو خواب میں دیکھا کہ جیسے ایک اولیاء اللہ خدا سے تعلق رکھنے والی ہوتی ہیں اور ان کے ہاتھ میں دس روپیہ سفید اور صاف ہیں۔یہ میرے دل میں گزرا ہے کہ دس روپیہ ہیں۔مَیں نے صرف دُور سے دیکھے ہیں۔تب انہوں نے وہ دس روپیہ اپنے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کی طرف پھینکے ہیں اور ان روپوں میں سے نور کی کرنیں نکلتی ہیں جیسا کہ چاند کی شعاعیں ہوتی ہیں وہ نہایت تیز اور چمک دار کرنیں ہیں جو تاریکی کو روشن کردیتی ہیں اور مَیں اس وقت تعجب میں ہوں کہ روپیہ میں سے کس وجہ سے اس قدر نُورانی کرنیں نکلتی ہیں اور خیال گزرتا ہے کہ ان نورانی کرنوں کا اصل موجب خود وہی ہیں۔اس حیرت سے آنکھ کُھل گئی… تعجب میں ہوں کہ اس کی تعبیر کیا ہے۔شاید اس کی تعبیر یہ ہے کہ ان کے لئے خدا تعالیٰ کے علم میں کوئی نہایت نیک حالت درپیش ہے۔اسلام میں عورتوں میں سے بھی صالح اور ولی ہوتی رہی ہیں جیسا کہ رابعہ بصری رضی اللہ عنہا۔اور یہ بھی خیال گزرتا ہے کہ شاید اس کی یہ تعبیر ہو کہ زمانہ کے رنگ بدلنے سے آپ کو ۱ نواب محمد علی خان صاحبؓ رئیس مالیر کوٹلہ۔(مرزا بشیر احمد) ۲ نواب محمد علی خان صاحبؓ رئیس مالیر کوٹلہ۔(شمس)