تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 434 of 1089

تذکرہ — Page 434

کوئی بڑا مرتبہ مل جائے اور آپ کی یہ بیگم صاحبہ اس مرتبہ میں شریک ہوں۔آئندہ خدا تعالیٰ کو بہتر معلوم ہے۔‘‘ (از مکتوب بنام نواب محمد علی خان صاحبؓ۔مکتوبات احمد جلد ۲ صفحہ ۲۶۲ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۹ ؍مارچ ۱۹۰۳ء ۱۔’’ میں نے دیکھا کہ ایک پروانہ میرے نام آیا ہے جس میں لکھا ہے کہ چار جگہ پر طاعون کاحکم جاری کیا گیا… میں ڈرتا ہوں کہ وہ احکام تو میرے پاس نہیں پہنچے گویا میں ان کاغذات کا محافظ دفتر ہوں۔‘‘۱؎ ۲۔’’ اور دیکھا کہ گویا ایک شخص امام الدین اور مولوی محمد یہ بھی انگریزی میں کچھ کام کررہے ہیں۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۷) ۱۰ ؍ مارچ۱۹۰۳ء ’’ یُرِیْدُ وْنَ اَنْ لَّایَتِمَّ اَمْرُکَ۔وَاللّٰہُ یَاْبٰی اِلَّا اَنْ یُّتِمَّ اَمْرَکَ۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۷) (ترجمہ) ’’ وہ ارادہ کریں گے جو تیرا کام ناتمام رہے۔اور خدا نہیں چاہتا جو تجھے چھوڑدے جب تک تیرے تمام کام پورے نہ کرے۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۹۸) ۱۵؍ مارچ۱۹۰۳ء ’’ اِنَّـا نَـرِثُ الْاَرْضَ نَـاْکُلُھَا مِنْ اَطْرَافِھَا۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۷) (ترجمہ) ’’ہم زمین کے وارث ہوں گے اور اطراف سے اس کو کھاتے آئیں گے۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۰۷) ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’رات کو مَیں نے ایک خواب دیکھی کہ ایک شخص نے مجھے ایک پروانہ دیا ہے۔وہ لمبا سا کاغذ ہے مَیں نے پڑھا تو لکھا ہوا تھا کہ عدالت سے چار جگہ کے لئے طاعون کا حکم جاری کیا گیا ہے۔اس پروانہ سے پایا جاتا تھا کہ اس کا اجرا مَیں نے کیا ہے۔جیسے کاغذات محافظ دفتر کے پاس ہوتے ہیں ویسے ہی وہ میرے پاس ہے۔مَیں نے کہا کہ یہ حکم ایک عرصہ سے ہے اور اس کی تعمیل آج تک نہ ہوئی۔اَب مَیں اس کا کیا جواب دُوں گا۔اس سے مجھے ایک خوف طاری ہوا اور تمام رات مَیں اسی خرخشہ میں رہا اور اس پر روشن خط میں لفظ طاعون کا لکھا تھا۔گویا حکم میرے نام آتا ہے اور مَیں جاری کرتا ہوں۔پھر مَیں نے دیکھا کہ اپنی جماعت کے چند آدمی کشتی کررہے ہیں۔مَیں نے کہا آؤ مَیں تم کو ایک خواب سناؤں۔مگر وہ نہ آئے۔مَیں نے کہا۔کیوں نہیں سنتے۔جو شخص خدا کی باتیں نہیں سنتا وہ دوزخی ہوتا ہے۔‘‘ (البدر مورخہ ۲۰؍مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ۶۵،۶۶)