تذکرہ — Page 432
(ب) ’’اِنِّیْ مَعَ الْـجَیْشِ اٰتِیْکَ بَغْتَۃً۔اِنِّیْ اَنَـا الرَّحْـمٰنُ ذُو اللُّطْفِ وَالنَّدٰی۔اِنِّیْ اَنَـا الرَّحْـمٰن ذُو الْمَجْدِ وَ الْعُلٰی۔‘‘؎۱ ( کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۶) ۱۷؍ فروری ۱۹۰۳ء روز سہ شنبہ ’’ یَـوْمُ الْاِثْنَیْنِ وَ فَتْحُ الْـحُنَیْنِ۔‘‘ ؎۲ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۶۔البدر جلد ۲ نمبر ۵ مورخہ ۲۰؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۹۔الحکم جلد ۷ نمبر ۷ مورخہ ۲۱؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ۱۶ ) ۱۸ ؍فروری ۱۹۰۳ء ’’ وَ؎۳یُــبْقِــــیْـــــــــکَ۔تا بدیر ترا خواہد داشت ‘‘؎۴ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۶) ۲۱؍ فروری ۱۹۰۳ء ’’ ضَاقَتِ الْاَرْضُ بِـمَا رَحُبَتْ‘‘ ؎۵ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۶) ۲۲؍ فروری ۱۹۰۳ء آج رات ۵ بجے دیکھا کہ شیخ رحمت اللہ صاحب نے نہایت شیریں اور سرد اور لذیذ دودھ مجھے پلایا ہے۔پھر کسی نے کہا کہ اَب…؎۶ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۶) ۲۵؍ فروری ۱۹۰۳ء ’’ زن باد آں فرزند کہ چنیں پدرے بگزرد و ا و ملول نیست۔‘‘؎۷ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۶) ۱ (ترجمہ از مرتّب) مَیں لشکر کے ساتھ تیرے پاس اچانک آؤں گا۔مَیں ہی لطف اور بخشش کا مالک رحمان ہوں۔مَیں ہی بزرگی اور بلندی کا مالک رحمان ہوں۔۲ (ترجمہ از مرتّب) روز سوموار اور حنین والی فتح۔۳ (ترجمہ از ناشر) وہ خدا تجھے دیر تک زندہ رکھے گا۔۴ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔کہ کل ۱۸؍فروری کو یکایک مرض کا دَورہ ہوگیا اور ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوگئے۔اسی حالت میں ایک الہام ہوا جس کا صرف ایک حصّہ یاد رہا۔چونکہ بہت تیزی کے ساتھ ہوا تھا جیسے بجلی کوندتی ہے اس لئے باقی حصّہ محفوظ نہ رہا۔وہ یہ ہے۔وَ یُبْقِیْکَ اس کا ترجمہ بھی اللہ تعالیٰ نے ساتھ ہی بتایا اور وہ یہ ہے۔تا بدیر ترا خواہد داشت ‘‘ (الحکم مورخہ ۲۱؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ۱۶۔البدر مورخہ ۲۷؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۴۷) ۵ (ترجمہ از مرتّب) زمین فراخی کے باوجود تنگ ہوگئی۔۶ یہاںدرج الفاظ پڑھے نہیں جاسکے۔(ناشر) ۷ (ترجمہ از مرتّب) وہ لڑکا جس کا ایسا باپ گزر جائے اور وہ ملول تک نہ ہو(کاش) وہ عورت ہوتا ( تو اچھا تھا)۔