تذکرہ — Page 399
۱۹۰۲ء ’’ایک دفعہ مَیں خود سخت بیمار ہوگیا اور حالت ایسی بگڑی کہ بیماری سے جان بَر ہونا مشکل معلوم ہوتا تھا۔تب یہ الہام ہوا۔مَا کَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَـمُوْتَ اِلَّا بِـاِذْ۔نِ اللّٰہِ وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْکُثُ فِی الْاَرْضِ۔؎۱ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے وعدہ کے موافق عین نا امیدی کی حالت میں شفا بخشی اور یُوں تو ہزار ہا لوگ شفا پاتے ہیں مگر ایسی نااُمیدی کی حالت میں سینکڑوں انسانوں میں دعویٰ سے یہ پیش کرنا کہ شفا ضرور حاصل ہوجائے گی یہ انسان کا کام نہیں۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ۵۹۹) ۱۹۰۲ء ’’مَیں نے اُسے؎۲بارہا دیکھا ہے۔ایک بار مَیں نے اور مسیح نے ایک ہی پیالہ میں گائے کا گوشت کھایا تھا۔‘‘ (الحکم جلد ۶نمبر۲۹ مورخہ۱۷؍اگست ۱۹۰۲ء صفحہ۱۲) ۱۹۰۲ء ’’ ایک دفعہ ان؎۳ کا لڑکا مرزا ابراہیم بیگ مرحوم بیمار ہوا تو انہوں نے میری طرف دعا کے لئے خط لکھا۔ہم نے دعا کی تو کشف میں دیکھا کہ ابراہیم ہمارے پاس بیٹھا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے بہشت سے سلام پہنچادو۔جس کے معنے یہی دل میں ڈالے گئے کہ اب ان کی زندگی کا خاتمہ ہے۔اگرچہ دل نہیں چاہتا تھا تاہم بہت سوچنے کے بعد میرزا محمد یوسف بیگ صاحب کو اس حادثہ سے اطلاع دی گئی اور تھوڑے دنوں کے بعد وہ جوان غریب مزاج فرمانبردار بیٹا ان کی آنکھوں کے سامنے اِس جہانِ فانی سے چل بسا۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ ۶۰۱) ۵؍ مئی ۱۹۰۲ء ’’رات کے تین بجے حضرت اقدس کو الہام ہوا۔اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ اِلَّا الَّذِیْنَ عَلَوْا بِاسْتِکْبَارٍ۔۴؎ (ترجمہ از مرتّب) کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر مر نہیں سکتا اور جو وجود لوگوں کو نفع پہنچاتا ہے وہ دنیا میں زیادہ دیر تک قائم رہتا ہے۔۲ یعنی حضرت مسیح علیہ السلام کو۔(مرزا بشیر احمد) ۳ مرزا محمد یوسف بیگ صاحب ساکن ساماؔنہ ریاست پٹیالہ۔(مرزا بشیر احمد) ۴ (ترجمہ) یعنی مَیں دار کے اندر رہنے والوں کی حفاظت کروں گا سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے تکبر کے ساتھ علو کیا۔(الحکم مورخہ ۱۰؍ مئی ۱۹۰۲ء صفحہ ۱۰)