تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 398 of 1089

تذکرہ — Page 398

۲۸؍ اپریل ۱۹۰۲ء حضرت اقدس کو الہام ہوا۔’’ اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ۔‘‘ ؎۱ (الحکم جلد ۶ نمبر ۱۶ مورخہ ۳۰؍اپریل ۱۹۰۲ء صفحہ ۷) ۳۰؍ اپریل ۱۹۰۲ء ’’فرمایا آج رات کو الہام ہوا۔لَوْ لَاالْاَمْرُ لَھَلَکَ النَّمْرُ۔یعنی اگر سنّت اللہ اور امر الٰہی اس طرح پر نہ ہوتا کہ اَئِـمَّۃُ الْکُفر اخیر میں ہلاک ہوا کریں تو اب بھی بڑے بڑے مخالف جلد تباہ ہوجاتے لیکن چونکہ بڑے مخالف جو ہوتے ہیں ان میں ایک خوبی عزم اور ہمّت اور لوگوں پر حکمرانی اور اثر ڈالنے کی ہوتی ہے اس واسطے ان کے متعلق یہ امید بھی ہوتی ہے کہ شاید لوگوں کے حالات سے عبرت پکڑ کر توبہ کریں اور دین کی خدمت میں اپنی قوتوں کو کام میں لاویں۔‘‘ (الحکم جلد ۶نمبر۱۶ مورخہ ۳۰؍اپریل ۱۹۰۲ء صفحہ۸) ۱۹۰۲ء ’’ایک عرصہ ہوا مَیں نے خواب میں دیکھا تھا کہ گویا میر ناصر نواب ایک دیوار بنا رہے ہیں جو فصیل شہر ہے مَیں نے اس کو جو دیکھا تو خوف آیاکیونکہ وہ قد ِ آدم بنی ہوئی تھی۔خوف یہ ہوا کہ اس پر آدمی چڑھ سکتا ہے۔مگر جب دوسری طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ قادیاؔن بہت اونچی کی گئی ہے اس لئے یہ دیوار دوسری طرف سے بہت اونچی ہے اور یہ دیوار گویا ریختہ کی بنی ہوئی ہے۔فرش کی زمین بھی پختہ کی گئی ہے اور غور سے جو دیکھا تو وہ دیوار ہمارے گھروں کے ارد گرد ہے اور ارادہ ہے کہ قادیان کے گرد بھی بنائی جاوے۔شاید اللہ رحم کرکے ان بلاؤں میں تخفیف کردے۔‘‘ (الحکم جلد ۶نمبر۳۶ مورخہ ۱۰؍اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحہ۱۶) (ترجمہ از مرتّب) میں ہر ایک کو جو تیرے گھر کی چاردیوار کے اندر ہے طاعون سے بچاؤں گا۔(نوٹ از البدر) ۴؍مئی ۱۹۰۴ء۔’’ آج دن کو مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے مینیجر و ایڈیٹر رسالہ ریویو آف ریلیجنز کی طبیعت علیل ہوگئی اور درد سر اور بخار کے عوارض کو دیکھ کر مولوی صاحب کو شبہ گزرا کہ شاید طاعون کے آثار ہیں۔جب اس بات کی خبر حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ہوئی تو آپ فوراً مولوی صاحب کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ میرے دار میں ہوکر اگر آپ کو طاعون ہو تو پھر اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ الہام اور یہ سب کاروبار گویا عبث ٹھیرا۔آپ نے نبض دیکھ کر اُن کو یقین دلایا کہ ہرگز بخار نہیں ہے پھر تھرمامیٹر لگا کر دکھایا کہ پارہ اس حد تک نہیں ہے جس سے بخار کا شُبہ ہو اور فرمایا کہ میرا تو خدا کی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ اس کی کتابوں پر ہے۔‘‘ (البدر مورخہ ۸ و ۱۶؍مئی ۱۹۰۴ء صفحہ۴)