تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 400 of 1089

تذکرہ — Page 400

فرمایا۔علو دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک جائز ہوتا ہے اور دوسرا ناجائز۔جائز کی مثال وہ علو ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام میں تھا اور ناجائز کی مثال وہ علو ہے جو فرعون میں تھا۔‘‘ (الحکم جلد۶ نمبر ۱۷ مورخہ ۱۰؍مئی ۱۹۰۲ء صفحہ ۱۰) ۵ ؍مئی ۱۹۰۲ء فرمایا کہ صبح کی نماز کے بعد یہ الہام ہوا۔اِنِّیْ اَرَی الْمَلَآ ئِکَۃَ الشِّدَادَ ۱؎ فرمایا۔’’ خدا کے غضب شدید سے بغیر تقویٰ و طہارت کے کوئی نہیں بچ سکتا۔پس سب کو چاہیےکہ تقویٰ و طہارت کو اختیار کریں اور اگر کوئی فاسق اور فاجر دَار میں داخل ہوجائے تو اس کا بچ رہنا یقینی کیوں کر ہوسکتا ہے۔ہاں اس میں پھر بھی ایک قسم کی خصوصیت کی گئی ہے۔کیونکہ جو لوگ علوّ استکبار نہ کریں ان کی حفاظت کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے لیکن اِنَّہٗ اٰوَی الْقَرْیَۃَ۲؎ میں یہ امر نہیں۔وہاں انتشار اور ہل چل شدید سے بچنے کاوعدہ معلوم ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ ایسا امر نہیں کرتا جس سے لوگوں کو جرأت پیدا ہوجائے اور گناہ کی طرف جھکنے لگیں۔‘‘ (الحکم جلد۶ نمبر ۱۷ مورخہ ۱۰؍مئی ۱۹۰۲ء صفحہ ۱۰،۱۱) ۱۹۰۲ء (الف) ’’ان دنوں میں خدا تعالیٰ نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا۔اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّا؎۳رِ اِلَّا الَّذِیْنَ عَلَوْا مِنِ اسْتِکْبَارٍ۔وَ اُحَافِظُکَ خَآصَّۃً۔سَلَا۔مٌ قَـوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ۔یعنی مَیں ہر ایک ایسے انسان کو طاعون کی موت سے بچاؤں گا جو تیرے گھر میں ہوگا مگر وہ لوگ جو تکبر سے اپنے تئیں اُونچا کریں۔اور مَیں تجھے خصوصیت کے ساتھ بچاؤں گا۔خدائے رحیم کی طرف سے تجھے سلام۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ ۴۰۱) (ب) ’’ اُس نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ تُو اور جو شخص تیرے گھر کی چاردیوار کے اندر ہوگا اور وہ جو کامل پَیروی اور اطاعت اور سچے تقویٰ سے تجھ میں محو ہوجائے گا وہ سب طاعون سے بچائے جائیں گے اور ان ۱ (ترجمہ) مَیں سخت فرشتوں کو دیکھتا ہوں جیسا کہ مثلاً ملک الموت وغیرہ ہیں۔(الحکم مورخہ ۱۰؍ مئی ۱۹۰۲ء صفحہ ۱۰) ۲ (ترجمہ) وہ اس قادیان کو کسی قدر بلا کے بعد اپنی پناہ میں لے گا۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۹۷) ۳ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’ اِس جگہ یہ نہیں سمجھنا چاہیےکہ وہی لوگ میرے گھر کے اندر ہیں جو میرے اِس خشت و خاک کے گھر میں بودوباش رکھتے ہیں بلکہ وہ لوگ بھی جو میری پوری پَیروی کرتے ہیں میرے روحانی گھر میں داخل ہیں۔‘‘ (کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد۱۹ صفحہ ۱۰)