تذکرہ — Page 382
۱۵؍ اگست ۱۹۰۱ء ’’۱۵؍اگست ۱۹۰۱ء کی صبح کو ایک الہام ہوا۔وَ اِنِّیْ اَرٰی بَعْضَ الْمَصَآئِبِ تَنْزِلُ۔‘‘ ؎۱ (الحکم جلد۵نمبر۳۱مورخہ ۲۴؍اگست۱۹۰۱ء صفحہ۴) ۲۱؍ اگست ۱۹۰۱ء ’’الہام۔اِنَّـآ اَعْطَیْنٰکَ الْکَـوْثَرَ۔فَصَلِّ لِـرَ بِّکَ وَ انْـحَرْ۔‘‘ (تحریر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بر رجسٹر محاورات العرب) (ترجمہ) ’’ہم نے تجھ کو معارفِ کثیرہ عطا فرمائے ہیں سو اُس کے شکر میں نماز پڑھ اور قربانی دے۔‘‘ (براہین احمدیہ حصّہ چہارم۔روحانی خزائن جلد اوّل صفحہ ۶۱۸ حاشیہ در حاشیہ نمبر۳) ۲۶؍ اگست ۱۹۰۱ء فرمایا۔’’ تقویٰ کے مضمون پر ہم کچھ شعر لکھ رہے تھے۔اس میں ایک مصرع الہامی درج ہوا۔وہ شعر یہ ہے ہر اِک نیکی کی جڑ یہ اِتّقا ہے اگر یہ جَڑ رہی سب کچھ رہا ہے اس میں دوسرا مصرعہ الہامی ہے۔‘‘ (الحکم جلد ۵ نمبر ۳۲ مورخہ ۳۱؍اگست ۱۹۰۱ء صفحہ ۱۳) ۱۹۰۱ء ’’۲۶ یا ۲۷؍اگست یا اس کے قریب ایک دن حضرت نے فرمایا ’’ہم نےرؤیامیں دیکھا ہے کہ ایک شخص نے قے کی ہے اور اس پر کپڑا دے کر اُسے چھپاتا ہے۔‘‘ (الحکم جلد ۵ نمبر۳۳ مورخہ۱۰؍ستمبر ۱۹۰۱ء صفحہ ۹) ۲۸؍ اگست ۱۹۰۱ء ’’ ۲۸؍اگست ۱۹۰۱ء کی صبح کو حضرت نے فرمایا کہ ’’ ہمارے مخالف دو قسم کے لوگ ہیں۔ایک تو مسلمان ملّا مولوی وغیرہ۔دوسرے عیسائی انگریز وغیرہ۔دونوں اس مخالفت میں اور اِسلام پر ناجائز حملے کرنے میں زیادتی کرتے ہیں۔آج ہمیں ان دونوں قوموں کے متعلق ایک نظارہ دکھایا گیا اور الہام کی بقیہ حاشیہ۔۱۔’’غَضِبْتُ غَضَبًا شَدِیْدًا۔پھر دعا کی تو یہ وحی نازل ہوئی۔اِنَّہٗ یُنْجِیْ اَھْلَ السَّعَادَۃِ۔۲۔اس کے بعد یہ وحی ہوئی۔اِنِّیْ اُنْـجِی الصَّادِقِیْنَ۔‘‘ (الحکم مورخہ ۱۷؍اگست۱۹۰۱ء صفحہ۱۴) ۱ (ترجمہ از مرتّب) اور مَیں دیکھتا ہوں کہ بعض مصائب نازل ہورہے ہیں۔