تذکرہ — Page 383
صورت پیدا ہوئی مگر اچھی طرح یاد نہیں رہا۔انگریزوں وغیرہ کے متعلق اس طرح سے تھا کہ ان میں بہت لوگ ہیں جو سچائی کی قدر کریں گے اور ملّا مولویوں وغیرہ کے متعلق یہ تھا کہ ان میں سے اکثر کی قوت مسلوب ہوگئی ہے۔‘‘ (الحکم جلد ۵ نمبر۳۳ مورخہ۱۰؍ستمبر ۱۹۰۱ء صفحہ ۹) ۲ ؍ستمبر ۱۹۰۱ء ’’فرمایا۔آج ہم نےرؤیامیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کا دربا ر ہے اور ایک مجمع ہے اور اس میں تلواروں کا ذکر ہورہا ہے۔تو مَیں نے اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرکے کہا کہ سب سے بہتر اور تیز تر وہ تلوار ہے جو تیری تلوار میرے پاس ہے اس کے بعد ہماری آنکھ کُھل گئی اور پھر ہم نہیں سوئے کیونکہ لکھا ہے کہ جب مبشر خواب دیکھو تو اُس کے بعد جہاں تک ہوسکے نہیں سونا چاہیے اور تلوار سے مراد یہی حربہ ہے جو کہ ہم اس وقت اپنے مخالفوں پر چلا رہے ہیں جو آسمانی حربہ ہے۔‘‘ (الحکم جلد ۵ نمبر۳۳ مورخہ۱۰؍ستمبر ۱۹۰۱ء صفحہ ۹) ۳۰؍ ستمبر۱۹۰۱ء ’’۳۰؍ستمبر ۱۹۰۱ء کی رات کو حضرت اُمّ المومنین علیہا السلام نے ۱۲ بجے کے قریب ایک رؤیا دیکھی اور آپ نے حضرت اقدس کو اُسی وقت اس رؤیاسے اطلاع دی اور وہ یوں ہے۔عیسیٰ کا مسئلہ حل ہوگیا۔خدا کہتا ہے مَیں جب عیسیٰ کو اُتارتا ہوں تو پَوڑی کھینچ لیتا ہوں۔اس کے معنے حضرت اُمّ المؤمنین کے دل میں یہ ڈالے گئے کہ عیسیٰ کی حیات و ممات میں انسان کا دخل نہیں۔یہ تورؤیاکا مضمون ہے۔حضرت امام ہمام علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔اِس پر مَیں نے توجہ کی تو یہ القا ہوا کہ حقیقت میں ہزار سالہ موت کے بعد جو اَب اِحیا ہوا ہے اس میں انسانی ہاتھ کا دخل نہیں ہے۔جیسے خدا نے مسیح کو بن باپ پیدا کیا تھا یہاں مسیح موعود کو بلاواسطہ کسی اُستاد یا مُرشد روحانی زندگی عطا فرمائی۔اُستاد بھی حقیقت میں باپ ہی ہوتا ہے بلکہ حقیقی باپ استاد ہی ہوتا ہے۔افلاطون کہتا ہے کہ باپ تو روح کو زمین پر لاتا ہے اور اُستاد زمین سے آسمان پر پہنچاتا ہے۔غرض تو جیسے مسیح بِن باپ پیدا ہوا اور اُس کی اس حیات میں کسی انسان کا دخل نہ تھا ویسے ہی یہاں بدوں کسی اُستاد یا مُرشد کے خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل اورفیض