تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 381 of 1089

تذکرہ — Page 381

مجھے بھی یہی؎۱الہام ہوا ہے جس سےصاف صاف پایا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی نصرت اور تائید اپنا کام کرکے رہے گی۔‘‘ (الحکم جلد۵نمبر۲۶مورخہ ۱۷؍جولائی ۱۹۰۱ء صفحہ۲) ۱۹۰۱ء ’’ اللہ تعالیٰ نے اس عاجز کا نام سُلْطَانُ الْقَلَم رکھا اور میرے قلم کو ذوالفقار علی فرمایا۔‘‘ (الحکم جلد ۵ نمبر ۲۲ مورخہ ۱۷؍جون ۱۹۰۱ء صفحہ۲) جولائی ۱۹۰۱ء ’’ تین دن ہوئے مجھے الہام ہوا تھا۔اِنِّیْ مَعَ الْاَفْوَاجِ اٰتِیْکَ بَغْتَۃً۔؎۲ مَیں حیران ہوں یہ الہام مجھے بہت مرتبہ ہوا ہے اور عموماً مقدّمات میں ہوا ہے۔افواج کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ مقابل میں بھی بڑے بڑے منصوبے کئے گئے ہیں اور ایک جماعت ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ کا جوش نفسانی نہیں ہوتا ہے اس کے تو انتقام کے ساتھ بھی رحمانیت کا جوش ہوتا ہے۔پس جب وہ افواج کے ساتھ آتا ہے تو اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ مقابل میں بھی فوجیں ہیں جب تک مقابل کی طرف سے جوشِ انتقام کی حد نہ ہوجا وے خدا تعالیٰ کی انتقامی قوت جوش میں نہیں آتی۔‘‘ (الحکم جلد۵نمبر۲۶مورخہ ۱۷؍جولائی ۱۹۰۱ء صفحہ۹) ۱۱؍اگست ۱۹۰۱ء ’’ الہام الٰہی۔’’ اَیَّـامُ۳؎ غَضَبِ اللّٰہِ غَضِبْتُ غَضَبًا شَدِ یْدًا۔اِنَّہٗ یُنْجِیْ اَھْلَ السَّعَادَۃِ۔اِنِّیْ اُنْـجِی الصَّادِقِیْنَ۔‘‘۴؎ (تحریر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بر رجسٹر محاورات العرب) (نوٹ از مولانا عبد اللطیف بہاولپوری) اس الہام کی تاریخ حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ نے ۲۲؍اگست ۱۸۹۷ء لکھی ہے۔دیکھیے ذکر حبیبؑ صفحہ ۲۲۱۔مطبوعہ دسمبر ۱۹۳۶ء ۲ (ترجمہ از مرتّب) مَیں فوجیں لے کر تیرے پاس اچانک آؤں گا۔(نوٹ از ایڈیٹر الحکم) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ۱۵؍جولائی ۱۹۰۱ء کو گورداسپور اُس مقدّمہ میں جو میرزا نظام الدین وغیرہ پر مسجد مبارک کا راستہ بندکرنے کی وجہ سے کیا گیا تھا۔فریق ثانی کی درخواست پر بغرض ادائے شہادت گئے ہوئے تھے۔وہاں پر آپ نے یہ الہام بیان فرمایا۔(الحکم مورخہ ۱۷؍جولائی ۱۹۰۱ء صفحہ ۹) ۳ (ترجمہ از مرتّب) غضب ِ الٰہی کے ایام۔میں سخت غضب ناک ہوا۔وہ سعیدلوگوں کو بچالے گا۔میں راست بازوں کو نجات دوں گا۔۴ الحکم میں یوں مذکور ہے۔’’غَضِبْتُ غَضَبًا شَدِ یْـدًا‘‘ فرمایا۔جب یہ وحی ہوئی تو مَیں غضب ِ الٰہی سے ڈر گیا اور مَیں نے دُعا کی۔تب یہ وحی ہوئی۔