تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 273 of 1089

تذکرہ — Page 273

۲۹؍جولائی ۱۸۹۷ء (الف)’’ ۲۹؍ جولائی ۱۸۹۷ء کو مَیں نے خواب میں دیکھا کہ ایک صاعقہ مغرب کی طرف سے میرے مکان کی طرف چلی آتی ہے اور نہ اُس کے ساتھ کوئی آواز ہے اور نہ اُس نے کچھ نقصان کیا ہے بلکہ وہ ایک ستارہ روشن کی طرح آہستہ حرکت سے میرے مکان کی طرف متوجہ ہوئی ہے اور مَیں اُس کو دُور سے دیکھ رہا ہوں اور جبکہ وہ قریب پہنچی تو میرے دل میں تو یہی ہے کہ یہ صاعقہ ہے مگر میری آنکھوں نے صرف ایک چھوٹا سا ستارہ دیکھا جس کو میرا دل صاعقہ سمجھتا ہے۔پھر بعد اس کے میرا دل اس کشف سے الہام کی طرف منتقل کیا گیا اور مجھے الہام ہوا کہ۔مَا ھٰذَا؎۱ اِلَّا تَـھْدِیْدُ الْـحُکَّامِ یعنی یہ جو دیکھا اس کا بجز اس کے کچھ اثر نہیں کہ حکّام کی طرف سے کچھ ڈرانے کی کارروائی ہوگی اس سے زیادہ کچھ نہیں ہوگا۔پھر بعد اس کے الہام ہوا۔قَدِ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ۔ترجمہ۔مومنوں پر ایک ابتلا آیا یعنی بوجہ اس مقدّمہ؎۲ کے تمہاری جماعت ایک امتحان میں پڑے گی۔۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ نے اپنی پرانی نوٹ بک کے حوالہ سے ان چار الہاماتِ ذیل (ا) مَا ھٰذَا اِلَّا تَـھْدِیْدُ الْـحُکَّامِ۔(۲) صادق آں باشد کہ اَیامِ بلا۔الخ (۳) یَاْتِیْکَ نُصْرَتِیْ۔(۴) اِبْرَاء۔کی تاریخ نزول ۲۱؍اگست ۱۸۹۷ء لکھی ہے۔وَاللہُ اَعْلَمُ۔ان کے علاوہ ۲دو اور الہام بھی اسی تاریخ کے لکھے ہیں۔(ا) اِنِّیْ مَعَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِالْاَکْبَرِ (۲)اَنْتَ مِنِّیْ وَاَنَـا مِنْکَ۔دیکھیے ذکرِ حبیب صفحہ ۲۲۱ مطبوعہ دسمبر ۱۹۳۶ء ۲ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) یعنی مقدمہ اقدامِ قتل منجانب مارٹن کلارک کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’یہ مقدمہ اس طرح سے ہوا کہ ایک شخص عبدالحمید نام نے عیسائیوں کے سکھلانے پر مجسٹریٹ ضلع امرتسر کے رُو برو اظہار دئے کہ مجھے مرزا غلام احمد نے ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کے قتل کرنے کے لئے بھیجا ہے۔اس پر مجسٹریٹ امرتسر نے میری گرفتاری کے لئے یکم اگست کو وارنٹ جاری کیا جس کی خبر سن کر ہمارے مخالفین امرتسر و بٹالہ میں ریل کے پلیٹ فارموں اور سڑکوں پر آ آ کر کھڑے ہوتے تھے تا کہ میری ذلّت دیکھیں لیکن خدا کی قدرت ایسی ہوئی کہ اوّل تو وہ وارنٹ خدا جانے کہاں گم ہوگیا۔دوؔم مجسٹریٹ ضلع امرتسر کو بعد میں خبر لگی کہ اُس نے غیرضلع میں وارنٹ جاری کرنے میں بڑی غلطی کھائی ہے۔پس اُس نے ۶؍اگست کو جلدی سے صاحب ضلع گورداسپور کو تار دیا