تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 272 of 1089

تذکرہ — Page 272

گیا ہے لیکن اگر وہ اس عرصہ میں قادیاؔن میں آکر مجمع عام میں توبہ کرے تو اُسے معاف فرما کہ تُو رحیم و کریم ہے۔یہ دُعا ہے کہ مَیں نے اس بزرگ کے حق میں کی مگر مجھے اس بات کا علم نہیں ہے کہ یہ بزرگ کون ہے اور کہاں رہتے ہیں اور کس مذہب اور قوم کے ہیں جنہوں نے مجھے کذّاب ٹھہرا کر میری پَردہ دَری کی پیشگوئی کی اور نہ مجھے جاننے کی کچھ ضرورت ہے مگر اُس شخص کے اِس کلمہ سے میرے دل کو دُکھ پہنچا اور ایک جوش پیدا ہوا تب مَیں نے دُعا کردی اور یکم جولائی ۱۸۹۷ء سے یکم جولائی ۱۸۹۸ء تک اس کا فیصلہ کرنا خدا تعالیٰ سے مانگا۔‘‘ (از اشتہار مورخہ ۲۵؍ جون ۱۸۹۷ء۔مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحہ ۳۴۴،۳۴۵ مطبوعہ ۲۰۱۸ء) جولائی ۱۸۹۷ء ’’ جولائی ۱۸۹۷ء میں جب عزیزی مرزا یعقوب بیگ صاحب نے اسسٹنٹ سرجنی کا آخری امتحان دیا اور ہم نے اُن کے لئے دُعا کی تو الہام ہوا۔’’تم پاس ہوگئے ہو‘‘ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ وہ پاس ہوگیا ہے کیونکہ مخلصوں کے لئے جو یگانگت کی حد تک پہنچتے ہیں ایسے فقرے آجاتے ہیں… بالآخر عزیز مذکور اپنے امتحان میں بڑی خوبی سے کامیاب ہوا۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ ۶۰۱) بقیہ حاشیہ۔پہلے حاضر ہی ہوجاؤں۔امید کہ بارگاہِ قُدس سے بھی آپ کو راضی نامہ دینے کے لئے تحریک فرمائی جائے کہ نَسِيَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا قانون کا بھی یہی اصول ہے کہ جو جرم عمدًا و جان بوجھ کر نہ کیا جائے وہ قابلِ راضی نامہ و معافی کے ہوتا ہے۔فَاعْفُوْا وَاصْفَحُوْا اِنَّ اللّٰہَ یُـحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۔مَیں ہوں حضور کا مجرم (دستخطبزرگ)۱؎ راولپنڈی ۲۹؍اکتوبر ۹۷ء ‘‘ (کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد۱۳ صفحہ ۱۱۳ تا۱۱۷) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس خط کے جواب میں لکھا۔’’خدا تعالیٰ اس بزرگ کی خطا کو معاف کرے اور اس سے راضی ہو۔مَیں اس سے راضی ہوں اور اس کو معافی دیتا ہوں۔‘‘ (کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۱۱۸۔مجموعہ اشتہارات جلد۲ صفحہ ۳۸۸ مطبوعہ ۲۰۱۸ء) ۱ (نوٹ از مولانا عبد اللطیف بہاولپوری)یہ بزرگ خوا جہ جہاں داد چیف آف گکھڑ باشندہ ضلع راولپنڈی کے تھے۔دیکھیے الحکم مورخہ ۲۱، ۲۸؍جون ۱۹۴۳ء صفحہ ۴۔