تذکرہ — Page 274
پھر بعد اس کے یہ الہام ہوا کہ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الْمُجَاھِدِیْنَ مِنْکُمْ وَلَیَعْلَمَنَّ الْکَاذِبِیْنَ۔یہ میری جماعت کی طرف خطاب ہے کہ خدا نے ایسا کیا تا خدا تمہیں جتلاوے کہ تم میں سے وہ کون ہے کہ اُس کے مامور کی راہ میں صدقِ دل سے کوشش کرتا ہے اور وہ کون ہے جو اپنے دعویٰ بیعت میں جھوٹا ہے۔سو ایسا ہی ہوا۔ایک گروہ تو اِس مقدّمہ اور دوسرے مقدمہ میں جو مسٹر ڈ۱؎وئی صاحب کی عدالت میں فیصلہ ہوا صدقِ دل سے اور کامل ہمدردی سے تڑپتا پھرا اور انہوں نے اپنی مالی اور جانی کوششوں میں فرق نہیں رکھا اور دُکھ اٹھا کر اپنی سچائی دکھلائی اور دوسرا گروہ وہ بھی تھا کہ ایک ذرّہ ہمدردی میں شریک نہ ہوسکے سو اُن کے لئے وہ کھڑکی بند ہے جو اِن صادقوں کے لئے کھولی گئی۔پھر یہ الہام ہوا کہ صادق آں باشد کہ ایامِ بلا مے گذار د با محبت باوفا یعنی خدا کی نظرمیں صادق وہ شخص ہوتا ہے کہ جو بَلا کے دنوں کو محبّت اور وفا کے ساتھ گذارتا ہے۔پھر اس کے بعد میرے دل میں ایک اور موزوں کلمہ ڈالا گیا لیکن نہ اس طرح پر کہ جو الہامِ جلی کی صورت ہوتی ہے بلکہ الہامِ خفی کے طور پر دل اس مضمون سے بھر گیا اور وہ یہ تھا۔گرقضا را عاشقے گرد د اسیر بوسد آں زنجیر را کز آشنا یعنی اگر اتفاقاً کوئی عاشق قید میں پڑ جائے تو اُس زنجیر کو چومتا ہے جس کا سبب آشنا ہوا۔بقیہ حاشیہ۔کہ وارنٹ فوراً روک دو۔جس پر سب حیران ہوئے کہ وارنٹ کیسا۔لیکن مثل مقدمہ کے آنے پر صاحب ضلع گورداسپور نے ایک معمولی سمن کے ذریعہ سے مجھے بلایا اور عزت کے ساتھ اپنے پاس کرسی دی۔یہ صاحب ضلع جس کانام کپتان ایم۔ڈبلیو۔ڈگلس تھا بہ سبب زیرک اور دانشمند اور منصف مزاج ہونے کے فوراً سمجھ گیاکہ مقدّمہ بے اصل اور جھوٹا ہے۔اِس لئے میں نے ایک دوسرے مقام میں اس کو پیلاطوؔس سے نسبت دی ہے بلکہ مردانگی اور انصاف میں اُس سے بڑھ کر۔لیکن خدا کا اور فضل یہ ہوا کہ خود عبدالحمید نے عدالت میں اقرار کرلیا کہ عیسائیوں نے مجھے سکھلا کر یہ اظہار دلایا تھا ورنہ یہ بیان سراسر جھوٹ ہے کہ مجھے قتل کے لئے ترغیب دی گئی تھی۔پس صاحب ضلع نے اس آخری بیان کو صحیح سمجھا اور بڑے زور شور کا چٹھا لکھ کر مجھے بَری کردیا اور تبسم کے ساتھ عدالت میں مجھے مبارکباد دی۔فَالْـحَمْدُ لِلہِ عَلٰی ذَالِکَ۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ ۵۷۶، ۵۷۷۔مفصّل بیان کے لئے دیکھیے کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد۱۳ صفحہ ۱۹ تا ۱۲۲) ۱ Mr۔Dowie