تذکرہ — Page 229
الْـجَبْـھَۃِ وَکَانَ شَدِیْدَ التَّعَلُّقِ بِـالْمُصْطَفٰی وَ الْتَصَقَتْ رُوْحُہٗ بِـرُوْحِ خَیْرِ الْوَرٰی وَ غَشِیَہٗ مِنَ النُّوْرِمَا غَشِیَ مُقْتَدَاہُ مَـحْبُوْبَ الْمَوْلٰی وَاخْتَفیٰ تَـحْتَ شَعْشَعَانِ نُـوْرِ الرَّسُوْلِ وَفُیُوْضِہِ الْعُظْمٰی۔وَ کَانَ مُـمْتَازًا مِّنْ سَآئِرِ النَّاسِ فِیْ فَھْمِ الْقُرْاٰنِ وَ فِیْ مَـحَبَّۃِ سَیِّدِ الرُّسُلِ وَ فَـخْرِ نَوْعِ الْاِنْسَانِ۔وَلَمَّا تَـجَلّٰی لَہُ النَّشْأَۃُ الْاُخْرَوِیَّۃُ وَ الْاَسْـرَارُ الْاِلٰھِیَّۃُ نَفَضَ التَّعَلُّقَاتِ الدُّ۔نْیَوِیَّۃَ وَ نَبَذَ الْعِلَقَ الْـجِسْمَانِیَّۃَ وَ انْصَبَغَ بِصِبْغِ الْمَحْبُوْبِ وَ تَـرَکَ کُلَّ مُرَادٍ لِّلْوَاحِدِالْمَطْلُوْبِ وَ تَـجَرَّدَتْ نَفْسُہٗ عَنْ کُدُ۔وْرَاتِ الْـجَسَدِ وَ تَلَوَّنَتْ بِلَوْنِ الْـحَقِّ الْاَحَدِ وَ غَا۔بَتْ فِیْ مَرْضَاتِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔وَ اِذَا تَـمَکَّنَ الْـحُبُّ الصَّادِقُ الْاِلٰھِیُّ مِنْ جَـمِیْعِ عُرُوْقِ نَفْسِہٖ وَ جَذْرِ قَلْبِہٖ وَ ذَرَّاتِ وُجُوْدِہٖ وَظَھَرَتْ اَنْوَارُہٗ فِیْٓ اَفْعَالِہٖ وَ اَقْوَالِہٖ وَ قِیَامِہٖ وَقُعُوْدِہٖ سُـمِّیَ صِدِّیْقًا وَّ اُعْطِیَ عِلْمًا غَضًّا طَرِیًّا وَّ عَـمِیْقًا مِّنْ حَضْـرَۃِ خَیْرِ الْوَاھِبِیْنَ فَکَانَ الصِّدْقُ لَہٗ مَلَکَۃً مُّسْتَقِرَّۃً وَ عَادَۃً طَبْعِیَّۃً وَ بَدَأَتْ فِیْہِ اٰثَـارُہٗ وَ اَنْـوَارُہٗ فِیْ کُلِّ قَوْلٍ وَّ فِعْلٍ وَّ حَرَکَۃٍ وَّ سُکُوْنٍ وَّ حَوَآسَّ وَ اَنْفَاسٍ وَّ اُدْخِلَ فِی الْمُنْعَمِیْنَ عَلَیْـھِمْ مِّنْ رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِیْنَ وَ اِنَّہٗ کَانَ نُسْخَۃً اِجْـمَالِیَّۃً مِّنْ کِتَابِ النُّبُوَّۃِ وَ کَانَ اِمَامَ اَرْبَـابِ الْفَضْلِ وَ الْفُتُوَّۃِ وَ مِنْ بَقِیَّۃِ طِیْنِ النَّبِیِّیْنَ۔بقیہ ترجمہ۔سے ایسا گہرا تعلق تھا کہ آپ کی روح آنحضرت ؐ کی رُوحِ پاک سے متحد ہوچکی تھی اور آپ پر اُنہیں انوار کا نزول ہوگیا تھا جو آنحضرت ؐ کے شاملِ حال تھے اور آنحضرت ؐ کے انوار و فیوض عظیمہ آپ پر محیط تھے۔اور فہمِ قرآن اور سیّد الرسل فخر بنی نوع انسانؐ کی محبت میں آپ تمام لوگوں سے ممتاز تھے۔اور جب آپ پر روحانی عالم اور اسرارِ الٰہیہ کا دروازہ کھلا تو آپ نے عام دنیوی تعلقات اور جسمانی علائق کو چھوڑ دیا اور محبوب حقیقی کے رنگ میں رنگین ہوگئے اور خداوند ِ یکتا کی راہ میں ہر ایک مراد کو چھوڑ دیا اور جسمانی کدورتوں کا جامہ اُتار کر خدائی صفات کا جامہ پہن لیا اور رضائے الٰہی میں محو ہوگئے۔اور جب عشقِ حقیقی آپ کے رگ و ریشہ میں اور ہر ذرّۂ وجود میں جاگزیں ہوگیا اور اس کے انوار آپ کے افعال واقوال اور نشست و برخاست میں نمایاں طور پر نظر آنے لگے تو آپ کو صدّیق کا نام دیا گیا اور تازہ اور باریک علوم خداوند تعالیٰ کی طرف سے عطاہوئے جس کے نتیجہ میں صدق آپ کی فطرت میں داخل ہوگیا اور طبعی عادت بن گیا اور اس کے آثارو انوار آپ کے ہر ایک قول وفعل اور ہر ایک حرکت و سکون میں نیز آپ کے حواس اور انفاسِ طیّبہ میں ظاہر ہوگئے اورآپ کو خداوندِ کریم نے اپنے خاص انعام یافتہ لوگوں میں داخل فرمایا اور حق یہ ہے کہ آپ کا وجود کتابِ نبوت کا ایک اجمالی نسخہ تھا اورآپ اربابِ فضل و کمال کے پیشوا اورانبیاء کی پاک سرشت سے بہرہ یاب تھے۔