تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 230 of 1089

تذکرہ — Page 230

وَ لَا تَـحْسَبْ قَوْلَنَا ھٰذَا نَـوْعًا مِّنَ الْمُبَالَغَۃِ وَ لَا مِنْ قَبِیْلِ الْمُسَامَـحَۃِ وَ التَّجَوُّزِ وَ لَا مِنْ فَوْرِ عَیْنِ الْمَحَبَّۃِ بَلْ ھُوَ الْـحَقِیْقَۃُ الَّتِیْ ظَھَرَتْ عَلَـیَّ مِنْ حَضْـرَۃِ الْعِزَّۃِ۔‘‘ (سـرّ الـخلافۃ۔روحانی خزائن جلد۸ صفحہ ۳۵۵) ۱۸۹۴ء (الف) ’’ خدا تعالیٰ کے الہام نے مجھے جتلادیا کہ ڈپٹی عبداللہ آتھم نے اسلام کی عظمت اور اُس کے رعب کو تسلیم کرکے حق کی طرف رُجوع کرنے کا کسی قدر حصّہ لے لیا جس حصّہ نے اُس کے وعدہ موت اور کامل طور کے ہاویہ میں تاخیر ڈال دی اور ہاویہ میں تو گِرا لیکن اس بڑے ہاویہ سے تھوڑے دنوں کے لئے بچ گیا جس کا نام موت ہے… خدا تعالیٰ نے… مجھے فرمایا۔اِطَّلَعَ؎۱ اللّٰہُ عَلٰی ھَمِّہٖ وَغَـمِّہٖ۔وَلَنْ تَـجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًا۔وَلَا تَعْـجَبُوْا وَلَا تَـحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۔وَبِعِزَّتِیْ وَجَلَالِیْ اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعْلٰی۔وَ نُـمَزِّقُ الْاَعْدَآءَ کُلَّ مُـمَزَّقٍ۔وَمَکْرُ اُوْلٰٓئِکَ ھُوَ یَـبُوْرُ۔اِنَّـا نَکْشِفُ السِّـرَّ عَنْ سَاقِہٖ۔یَـوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ۔ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ وَثُلَّۃٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ۔وَ ھٰذِہٖ تَذْکِرَۃٌ فَـمَنْ شَآءَ اتَّـخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلًا۔ترجمہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس کے ہم ّ و غم پر اطلاع پائی اور اس کو مہلت دی۔جب تک کہ وہ بے باکی اور سخت گوئی اور تکذیب کی طرف مَیل کرے اور خدا تعالیٰ کے احسان کو بھُلادے (یہ معنے فقرہ مذکورہ کے تفہیم الٰہی سے ہیں) اور پھر فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی یہی سنّت ہے اور تو ربّانی سنتوں میں تغیر اور تبدل نہیں پائے گا۔اس فقرہ کے متعلق یہ تفہیم ہوئی کہ عادت اللہ اِسی طرح پر جاری ہے کہ وہ کسی پر عذاب نازل نہیں کرتا جب تک ایسے کامل بقیہ ترجمہ۔میرا یہ کلام مبالغہ پر ہرگز مبنی نہیں ہے۔نہ اس کی بِنا محض خوش اعتقادی پر ہے بلکہ یہ وہ حقیقت ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر ظاہر ہوئی ہے۔۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) محترم ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے درویش قادیان منشی محمد اسمٰعیل صاحب سیالکوٹی سے روایت کرتےہیں کہ ’’جب آتھم کی میعاد کا آخری دن تھا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مسجد مبارک کی چھت پر تشریف لائے اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ کو بلایا اور فرمایا کہ مجھے الہام ہوا ہے۔اِطَّلَعَ اللّٰہُ عَلٰی ھَـمِّہٖ وَغَـمِّہٖ اور اس کی تفہیم یہ ہوئی ہے کہ ہٖ کی ضمیر آتھم کی طرف جاتی ہے اس لئے معلوم ہوا کہ وہ اس میعاد کے اندر نہیں مرے گا۔‘‘ (اصحابِ احمد جلد اوّل صفحہ ۵۷، مطبوعہ ۱۹۵۱ء، ناشر شیخ محمد اسماعیل صاحب پا