تذکرہ — Page 207
۱۹؍ مارچ ۱۸۹۳ء ’’یکم رمضان المبارک۔۱۔اِنَّنِیْ مَعَکُمَا اَسْـمَعُ وَ اَرٰی۔۲۔اِدْ فَعْ بِـالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ ۳۔نَـجَّیْنَاکَ مِنَ الْغَمِّ وَ فَتَنَّاکَ فَتُوْنًا۔۴۔رسید مژدہ کہ ایام غم نخواہد ماند۔۵۔لِلہِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ۔۶۔اِنَّکَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّـھُمْ مَیِّتُوْنَ۔۷۔لَنُبَدِّلَنَّکُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِکُمْ اَمْنًا۔۸۔یَضْـرِبُوْنَ وُجُوْھَھُمْ اَیْنَ الْمَفَرُّ۔۹ یَـوْمَ تُـبَدَّ۔لُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ۔یعنی زمین کے باشندوں کے خیالات اور رائیں بدلائی جائیں گی۔۱۰۔اِنَّـمَا یُـؤَخِّرُھُمْ اِلٰی اَجَلٍ مُّسَمًّی اَجَلٍ قَرِیْبٍ۔۱۱۔اِنَّـا مُقْتَدِ۔رُوْنَ وَ اِنَّـا قَادِ۔رُوْنَ۔۱۲۔رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا اِنَّـا کُنَّا خَاطِئِیْنَ۔‘‘ ۱؎ (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۸۴) ۲۵؍مارچ ۱۸۹۳ء ’’ اب تک آپ کے لئے جہاں تک انسانی کوشش سے ہوسکتا ہے توجہ کی گئی… اور آخر جو بار بار کی توجہ کے بعد الہام ہوا۔وہ یہ تھا۔اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۔قُلْ قُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ یعنی اللہ جلّ شانہٗ ہر ایک چیز پر قادر ہے۔کوئی بات اس کے آگے اَنہونی نہیں۔انہیں کہہ دو …؎۲… جائیں۔اور یہ الہام ابھی ہوا ہے۔اس الہام میں جو میرے دل میں خدا تعالیٰ کی طرف سے فعلی طور پر کئے وہ یہی ہیں کہ ارادۂ الٰہی آپ کی خیر اور بہتری کے لئے مقدّر ہے لیکن وہ اِس بات سے وابستہ ہے کہ آپ اسلامی صلاحیت اور التزام صَوم و صلوٰۃ و تقویٰ و طہارت میں ترقی کریں بلکہ ان شرائط سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ امر مخفی نہایت ہی بابرکت امر ہے جس کے لئے یہ شرائط رکھے گئے ہیں۔‘‘ (از مکتوب بنام نواب محمد علی خان صاحبؓ۔مکتوبات احمد جلد ۲ صفحہ ۱۹۹ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۲؍اپریل ۱ (ترجمہ از مرتّب)۱ مَیں تم دونوں کے ساتھ ہوں۔میں سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں۔۲ایسے طریق سے مدافعت کر جو احسن ہو۔۳ہم نے تجھے غم سے نجات دی اور تیری خوب آزمائش کی۔۴خوشخبری پہنچی کہ غم کے دن نہیں رہیں گے۔۵خدا ہی کے لئے معاملہ ہے اس کے پہلے اور اس کے بعد بھی۔۶تو بھی مرے گا اور وہ بھی مریں گے۔۷یقیناً ہم تمہارے خوف کی حالت کو اس کے بعد امن کی حالت میں بدل دیں گے۔۸ وہ اپنے منہ پیٹیں گے کہ کہاں بھاگیں۔۹اُس دن وہ زمین دوسری زمین میں تبدیل کردی جائے گی۔۱۰وہ ان کو مقررہ میعاد تک ڈھیل دے رہا ہے۔وہ میعاد قریب ہے۔۱۱ہم قادرو توانا ہیں۔۱۲اے ہمارے ربّ ہم کو بخش دے ہم خطا کار تھے۔۲ یہ جگہ اصل خط میں پھٹی ہوئی ہے۔(اصحاب احمد جلد دوم صفحہ ۲۱۶ طبع اوّل)