تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 176 of 1089

تذکرہ — Page 176

مَیں نے یہی تعبیر کی ہے۔اور اسی رات والدہ محمود نے خواب میں دیکھا کہ محمدی (بیگم) سے میرا نکاح ہوگیا ہے اور ایک کاغذِ مہر ان کے ہاتھ میں ہے جس پر ہزار روپیہ مہر لکھا ہے اور شیرینی منگوائی گئی ہے اور پھر میرے پاس وہ خواب میں کھڑی ہے۔‘‘ (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۳۴ ) ۲۰؍اگست ۱۸۹۲ء روز شنبہ ’’آج رات بوقت دو۲ بجے مَیں نے دیکھا کہ ایک سانپ صاحب جان مرحومہ کے گھر میں پھرتا ہے۔پھر وہ زمین پر بیٹھ گیا اور محمد سعید نے اس کے سر پر انگلی رکھی تا اس کو قتل کرے۔پھر مَیں نے بھی انگلی رکھ دی تب اس کے سر میں آگ لگ گئی مگر مجھے معلوم ہوا کہ میری انگلی کو اس نے کاٹا ہے۔انگلی د ہنی طرف کی سبابہ تھی متورم ہوگئی اور اندیشہ رہا کہ اس کا اثر دل کو نہ پہنچے مگر پہنچتا معلوم نہیں ہوا اور اسی خواب میں معلوم ہوا کہ کچھ تکلیف محمود کو بھی پہنچی ہے مگر بظاہر خیریت ہے۔الٰہی ہریک تکلیف سے بچا۔آمین۔‘‘ (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۴۳) ۲۶؍ اگست ۱۸۹۲ء ’’ آج رات خواب میں دیکھا کہ کوئی شخص کہتا ہے کہ لڑکے کہتے ہیں کہ عید کل تو نہیں پر پرسوں ہوگی۔معلوم نہیں کل اور پرسوں کی کیا تعبیر ہے۔‘‘ (ازمکتوب بنام حضرت حکیم مولوی نور الدین صاحب ؓ۔مکتوبات احمدجلد ۲ صفحہ ۱۳۵ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱۸۹۲ء قریباً ’’خلیفہ سید محمد حسن صاحب وزیراعظم پٹیالہ کسی ابتلا اور فکر اور غم میں مبتلا تھے۔ان کی طرف سے متواتر دُعا کی درخواست ہوئی۔اتفاقاً ایک دن یہ الہام ہوا۔’’چل رہی ہے نسیم رحمت کی جو دعا کیجئے قبول ہے آج‘‘ اُس وقت مجھے یاد آیا کہ آج اِنہیں کے لئے دعا کی جائے چنانچہ دعا کی گئی اور ان کو بذریعہ خط اطلاع دی گئی اور تھوڑے عرصہ کے بعد انہوں نے ابتلاء سے رہائی پائی اور بذریعہ خط اپنی رہائی سے اطلاع دی۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ ۶۰۳) ۱۸۹۲ء ’’ مَیں نے اُس؎۱ کی وفات کے بعد اُس کو ایک مرتبہ خواب میں دیکھا کہ سیاہ کپڑے پہنے ہوئے ہے (جو سر سے پَیر تک سیاہ ہیں) اور مجھ سے قریباً سو قدم کے فاصلہ پر کھڑا ہے اور مجھ سے مدد کے طور پر کچھ مانگتا ہے۔مَیں نے جواب دیا کہ اب وقت گذرگیا اب ہم میں اور تم میں بہت فاصلہ ہے ۱ میر عباس علی صاحب لُدھیانوی۔(مرزا بشیر احمد)