تذکرہ — Page 175
اگست ۱۸۹۲ء ’’مَیں نے رات کو جس قدر آں مکرم کے لئے دعا کی اور جس حالت ِپُر سوز میں دعا کی اُس کو خداوند کریم خوب جانتا ہے… دعا کی حالت میں یہ الفاظ منجانب اللہ زبان پر جاری ہوئے۔لَوَیٰ عَلَیْہِ (اَوْ) لَا وَ لِیَّ عَلَیْہِ ؎۱ اور یہ خدا تعالیٰ کا کلام تھا اور اسی کی طرف سے تھا۔‘‘ (از مکتوب بنام حضرت حکیم مولوی نور الدین صاحبؓ۔مکتوبات احمد جلد ۲ صفحہ ۱۳۵۔مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱۴؍اگست ۱۸۹۲ء ’’۲۰؍ محرم ۱۳۰۹ھ مطابق ۱۴؍اگست ۱۸۹۲ء۔آج خواب میں مَیں نے دیکھا کہ محمدی (بیگم)جس کی نسبت پیشگوئی ہے باہر کسی تکیہ میں معہ چند کس کے بیٹھی ہوئی ہے اور سر اس کا شاید مُنڈا ہوا ہے اور بدن سے ننگی ہے اور نہایت مکروہ شکل ہے۔مَیں نے اُس کو تین مرتبہ کہا ہے کہ تیرے سر مونڈے ہونے کی یہ تعبیر ہے کہ تیرا خاوند مرجائے گا اور مَیں نے دونوں ہاتھ اس کے سر پر اتارے ہیں اور پھر خواب میں بقیہ حاشیہ۔ساتھ ہی دل پھر کھل گیا۔یہ خداوند حکیم و کریم کی طرف سے ایک ابتلاء ہے انشاء اللہ القدیر کوئی خوف کی جگہ نہیں… مجھے معلوم نہیں کہ ایسا پُر اشتعال حکم کسی اشتعال کی و جہ سے دیا گیا ہے کیا بدقسمت وہ ریاست ہے جس سے ایسے مبارک قدم نیک بخت اور سچے خیر خواہ نکالے جائیں اور معلوم نہیں کہ کیا ہونے والا ہے۔‘‘ (مکتوباتِ احمد جلد ۲ صفحہ ۱۳۵۔مطبوعہ ۲۰۰۸ء) (نوٹ) حضرت مولانا یعقوب علی صاحب عرفانیؓ اس پُر اشتعال حکم کے سبب پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’حضرت حکیم الامت اور مولوی محرم علی چشتی مرحوم پر ایک سیاسی الزام آپ کے دشمنوں نے لگایا تھا۔راجہ امر سنگھ صاحب کو حضرت حکیم الامت سے بہت محبت تھی اور وہ آپ کی عملی زندگی اور صداقت پسندی کا عاشق تھا اور وہ ایک مدبّر اور صائب الرائے نوجوان تھا وہ سیاسی جماعت جو مہارا جہ پرتاپ سنگھ کی حالت سے واقف اور ان پر قابو یافتہ تھی انہیں یہ شبہ تھا کہ کسی بھی وقت مہارا جہ پرتاپ سنگھ کو معزول کردیا جائے گا اور اس کی جگہ مہارا جہ امر سنگھ ہوجائیں گے یہ دراصل سیاسی اور اقتداری جنگ تھی اور اس کو مذہب کا رنگ دیا گیا کہ حضرت مولوی صاحب را جہ امر سنگھ کو جب وہ مہارا جہ ہوجائیں گے مسلمان کرلیں گے اس قسم کی سازش کرکے آپ کو اور مولوی محرم علی چشتی کو جموں سے نکل جانے کا حکم دے دیا گیا۔آپ نے حضرت اقدس کو اطلاع دی اس کے جواب میں حضرت اقدس نے … خط لکھا۔‘‘ (حیاتِ احمد جلد چہارم صفحہ ۲۶۷،۲۶۸ طبع دوم) ۱ (ترجمہ از مرتّب) اس پر مہربان ہوا (یا) اس کے مقابلہ میں کوئی دوست نہیں۔