تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 177 of 1089

تذکرہ — Page 177

تو میرے تک نہیں پہنچ سکتا۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ ۳۰۹) ۱۸۹۲ء ’’ طُوْبٰی لِمَنْ سَنَّ وَ سَارَ‘‘ ؎۱ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵صفحہ۲۔رجسٹر متفرق یادداشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۳۱) ۱۸۹۲ء ’’ لَا تَـخَفْ اِنَّنِیْ مَعَکَ۔وَمَاشٍ مَّعَ مَشْیِکَ۔اَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْزِلَۃٍ لَّا یَعْلَمُ الْـخَلْقُ۔وَجَدْتُّکَ مَاوَجَدْتُّکَ۔اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَّنْ اَرَادَ اِھَانَتَکَ۔وَاِنِّیْ مُعِیْنٌ مَّنْ اَرَادَ اِعَانَتَکَ۔اَنْتَ مِنِّیْ وَ سِـرُّکَ سِـرِّیْ وَاَنْتَ مُرَادِیْ وَمَعِیْ۔اَنْتَ وَجِیْہٌ فِیْ حَضْرَتِیْ۔اِخْتَرْتُکَ لِنَفْسِیْ۔‘‘؎۲ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد۵ صفحہ۱۱) ۱۸۹۲ء ۱۔؎ ’’ مَنِہ دل در تنعُّم ہائے دُنیا گر خدا خواہی کہ مے خواہد نگارِ من تہید ستانِ عشرت را‘‘ ؎۳ ۲۔’’ مصفّا قطرہ باید کہ تا گوھر شود پیدا کجا بیند دلِ ناپاک رُوئے پاک حضرت را ‘‘ ؎۴ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۵۵) ۱۸۹۲ء ’’ اب اس عاجز پر خداوند کریم نے جو کچھ کھولا اور ظاہر کیا وہ یہ ہے کہ اگر ہیئت دانوں اور طبعی والوں کے قواعد کسی قدر شہب ثاقبہ اور دُمدار ستاروں کی نسبت قبول بھی کئے جائیں تب بھی جو کچھ قرآن کریم میں اللہ جَلَّ شَانُہٗ وَ عَزَّ اِسْـمُہٗ نے ان کائنات الـجَوّ کی رُوحانی اغراض کی نسبت بیان فرمایا ہے اُس میں اور ۱ (ترجمہ از مرتّب) جس شخص نے اس طریق کو اختیار کرلیا اور ا س پر چل پڑا وہ بہت ہی خوش نصیب ہے۔۲ (ترجمہ از مرتّب) خوف نہ کر مَیں تیرے ساتھ ہوں اور تیرے ساتھ ساتھ چلتا ہوں تو میرے ہاں وہ منزلت رکھتا ہے جسے مخلوق میں سے کوئی نہیں جانتا۔مَیں نے تجھے پایا ہے جو مَیں نے تجھے پایا ہے۔جو تیری اہانت چاہے گا مَیں اُسے ذلیل و رُسوا کردُوں گا اور جو شخص تیری مدد کرنے کا ارادہ کرے گا اس کا مَیں مدد گار ہوں گا۔تو میرا ہے اور تیرار از میرا راز ہے اور تُو میرا مقصود ہے اور میرے ساتھ ہے۔تُو میری درگاہ میں صاحب ِ وجاہت ہے۔مَیں نے تجھے اپنے لئے برگزیدہ کرلیا ہے۔۳ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) اس شعر کا صرف دوسرا مصرع الہامی ہے اور شعر کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم خدا کو چاہتے ہو تو دنیا کی آسائشوں سے دل مت لگاؤ کیونکہ میرا محبوب آسائش سے دُور رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔۴ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) اس شعر کا صرف پہلا مصرع الہامی ہے۔اورشعر کا مطلب یہ ہے کہ موتی کے پیدا ہونے کے لئے صاف قطرہ چاہیے۔ایک ناپاک دل اس جناب عالی کے پاک چہرے کو کہاں دیکھ سکتا ہے۔