تذکرہ — Page 151
میں اکیلا ہوں اور خدا میرے ساتھ ہے۔اور اس کے ساتھ مجھے الہام ہوا۔اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَـھْدِیْنِ ؎۳ سو میں جانتا ہوں کہ خداوند تعالیٰ اپنی طرف سے کوئی حجّت ظاہر کردے گا۔‘‘ (از مکتوب بنام مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی۔مکتوبات احمد جلد ۱ صفحہ ۳۱۲۔مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱۱؍مارچ ۱۸۹۱ء ’’شاید ایک ہفتہ ہوا میں نے آپ کو خواب میں دیکھا۔گویا آپ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں کیا کروں۔تو میں نے آپ کو یہ کہا ہے۔خدا سے ڈر پھر جو چاہے کر۔‘‘ (از مکتوب بنام شیخ فتح محمد صاحب۔مکتوبات احمد جلد ۳ صفحہ ۲۸۰۔مطبوعہ ۲۰۱۳ء) ۱۸۹۱ء ’’ہماری ایک لڑکی عصمت بی بی نام تھی ایک دفعہ اس؎۱کی نسبت الہام ہوا۔کَرْمُ الْـجَنَّۃِ دَوْحَۃُ الْـجَنَّۃِ ؎۲ تفہیم یہ تھی کہ وہ زندہ نہیں رہے گی۔سو ایسا ہی ہوا۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸صفحہ ۵۹۳) ۱۸۹۱ء ’’ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ میں نعمت اللہ ولی کا وہ قصیدہ دیکھ رہا تھا جس میں اس نے میرے آنے کی بطور پیشگوئی خبر دی ہے اور میرا نام بھی لکھا ہے اور بتلایا ہے کہ تیرھویں صدی کے اخیر میں وہ مسیح موعود ظاہر ہوگا اور میری نسبت یہ شعر لکھا ہے کہ؎ مھدیٔ وقت و عیسٰی ٔ دوراں ھر دو را شہسوار مے بینم ۱ مفتی فضل الرحمٰن صاحب داماد حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل ؓ۔(مرزا بشیر احمد) ۲ (ترجمہ از مرتّب) وہ ضرور سیدھے راستہ پر ڈالا جائے گا۔(نوٹ از عرفانی صاحبؓ) مفتی فضل الرحمٰن صاحبؓ کے رشتہ نکاح کے متعلق حضرت مولوی صاحبؓ نے مشورہ پوچھا تھا… حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مشورہ دیا اور الہام الٰہی نے اس کی تائید فرمائی۔(از مکتوب بنام حضرت حکیم مولوی نور الدین صاحبؓ۔مکتوبات احمد جلد ۲ صفحہ ۱۱۰ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۳ (ترجمہ از مرتّب) میرے ساتھ میرا خدا ہے۔وہ ضرور میرے لئے راستہ پیدا کردے گا۔