تذکرہ — Page 152
یعنی وہ آنے والا مہدی بھی ہوگا اور عیسیٰ بھی ہوگا۔دونوں ناموں کا مصداق ہوگا اور دونوں طور کے دعوے کرے گا۔پس اِس اثناء میں کہ میں یہ شعر پڑھ رہا تھا عین پڑھنے کے وقت مجھے یہ الہام ہوا۔از پئے آں محمد احسن را تارکِ روزگار مے بینم؎۳ یعنی میں دیکھتا ہوں کہ مولوی سید محمد احسن امروہی اسی غرض کے لئے اپنی نوکری سے جو ریاست بھوپال میں تھی علیحدہ ہوگئے تا خدا کے مسیح موعود کے پاس حاضر ہوں اور اس کے دعوے کی تائید کے لئے خدمت بجالاوے، اور یہ ایک پیشگوئی تھی جو بعد میں نہایت صفائی سے ظہور میں آئی۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ ۳۴۶) ۱۸۹۱ء ’’جب یہ آیتیں اُتریں کہ مشرکین رجس ہیں، پلید ہیں، شرّالبریّہ ہیں، سفہا ہیں اور ذریّت شیطان ہیں اور اُن کے معبود وقود النار اور حصب جہنّم ہیں تو ابوطاؔلب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بُلا کر کہا کہ اے میرے بھتیجے! اب تیری دشنام دہی سے قوم سخت مشتعل ہوگئی ہے اور قریب ہے کہ تجھ کو ہلاک کریں اور ساتھ ہی مجھ کو بھی۔تُونے اُن کے عقلمندوں کو سفیہ قرار دیا اور اُن کے بزرگوں کو شرّالبریّہ کہا اور ان کے قابلِ تعظیم معبودوں کا نام ہیزمِ جہنّم اور وَقُوْدُ النَّارِ رکھا اور عام طور پر ان سب کو رِجس اور ذریّت شیطان اور پلید ٹھہرایا۔میں تجھے خیر خواہی کی راہ سے کہتا ہوں کہ اپنی زبان کو تھام اور دشنام دہی سے باز آجا ورنہ میں قوم کے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں کہا کہ اے چچا! یہ دشنام دہی نہیں ہے بلکہ اظہارِ واقعہ اور نفس الامر کا عین محل پر بیان ہے، اور یہی تو کام ہے جس کے لئے میں بھیجا گیا ہوں۔اگر اس سے مجھے مرنا درپیش ۱ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) سیرۃ المہدی جلد ۱ صفحہ ۴۴۵ مطبوعہ ۲۰۰۸ء سے معلوم ہوتا ہے کہ صاحبزادی عصمت بی بی کی وفات ۱۸۹۱ء میں تصنیف و اشاعت ازالہ اوہام سے پہلے ہوئی تھی اور یہ الہام بہر حال پہلے کا ہے مگر چونکہ ہم پہلے کی تعیین نہیں کرسکتے اس لئے اسے ۱۸۹۱ء میں ہی رکھا جاتا ہے۔۲ (ترجمہ از مرتّب) انگور کی جنّتی بیل۔جنت کا بڑا درخت۔۳ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) یہ الہامی شعر نمونہ پرچہ القادیان یکم ستمبر ۱۹۰۲ء میں بھی درج ہے لیکن پہلے مصرعہ میں’’ از پئے آں محمد احسن را‘‘ کی بجائے ’’ از برایش محمد احسن را ‘‘ لکھا ہے۔اگر یہ راوی کے حافظہ کی غلطی نہیں ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس الہامی شعر کی دو۲ قراءتیں ہیں۔وَاللہُ اَعْلَمُ۔