تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 146 of 1089

تذکرہ — Page 146

(سبز اشتہار۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۴۷۰) (ترجمہ) جب تو نے اس خدمت کے لئے قصد کرلیا تو خدا تعالیٰ پر بھروسا کر اور یہ کشتی ہماری آنکھوں بقیہ حاشیہ۔موجود ہے جو پہلے لڑکے کی وفات کے بارے میں شائع کیا گیا تھا جو رسالہ کی طرح کئی ورق کا اشتہار سبز رنگ کے ورقوں پر ہے۔‘‘ (ضمیمہ انجامِ آتھم۔روحانی خزائن جلد۱۱ صفحہ ۲۹۹) (ب) ’’پانچویں پیشگوئی میں نے اپنے لڑکے محمودؔ کی پیدائش کی نسبت کی تھی کہ وہ اَب پیدا ہوگا اور اُس کا نام محمود رکھا جائے گا اور اس پیشگوئی کی اشاعت کے لئے سبز ورق کے اشتہار شائع کئے گئے تھے جو اَب تک موجود ہیں اور ہزاروں آدمیوں میں تقسیم ہوئے تھے چنانچہ وہ لڑکا پیشگوئی کی میعاد میں پیدا ہوا اور اب نویں سال میں ہے۔‘‘ (سراج منیر۔روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۳۶) (ج) ’’مـحموؔد جو میرا بڑا بیٹا ہے اس کے پیدا ہونے کے بارے میں اشتہار دہم جولائی ۱۸۸۸ء میں اور نیز اشتہار یکم دسمبر ۱۸۸۸ء میں جو سبز رنگ کے کاغذ پر چھاپا گیا تھا پیشگوئی کی گئی اور سبز رنگ کے اشتہار میں یہ بھی لکھا گیا کہ اس پیدا ہونے والے لڑکے کا نام محمودؔ رکھا جائے گا… پھر جبکہ اس پیشگوئی کی شہرت بذریعہ اشتہارات کامل درجہ پر پہنچ چکی… تب خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم سے۱۲؍جنوری۱۸۸۹ء کو مطابق۹جمادی الاوّل۱۳۰۶ھ میں بروز شنبہ مـحموؔد پیدا ہوا۔‘‘ (تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد۱۵، صفحہ ۲۱۹) (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) مصلح موعود کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی جیسا کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے اشتہار تکمیل تبلیغ مورخہ۱۲؍جنوری۱۸۸۹ء کے حاشیہ میں خیال ظاہر فرمایا تھا اور بعض دوسرے مقامات پر بھی اشارات کئے ہیں حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی ایّدہ اللہ تعالیٰ کے وجود میں پوری ہوئی۔چنانچہ جملہ واقعات اور کوائف اس پر شاہد ہیں اور خود حضرت امیرالمؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی ایّدہ اللہ تعالیٰ نے بھی اسے صراحت کے ساتھ اپنے اوپر چسپاں کیا ہے۔(نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) چنانچہ حضور نے ۲۸؍جنوری۱۹۴۴ء بروز جمعۃ المبارک خطبہ جمعہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے علم پاکر اپنے مصلح موعود ہونے کا اعلان فرمایا۔حضور فرماتے ہیں۔(الف) ’’خدا تعالیٰ نے اپنی مشیت کے ماتحت آخر اس امر کو ظاہر کردیا اور مجھے اپنی طرف سے علم بھی دے دیا کہ مصلح موعود سے تعلق رکھنے والی پیشگوئیاں میرے متعلق ہیں۔‘‘ (ب) ’’آج پہلی دفعہ میں نے وہ تمام پیشگوئیاں پڑھیں اور اب ان پیشگوئیوں کو پڑھنے کے بعد میں خدا تعالیٰ کے فضل سے یقین اور وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے یہ پیشگوئی میرے ذریعہ سے ہی پوری کی ہے۔‘‘ (روزنامہ الفضل یکم فروری۱۹۴۴ء صفحہ ۶)