تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 147 of 1089

تذکرہ — Page 147

کے رُو برو اور ہماری وحی سے بنا۔جو لوگ تجھ سے بیعت کریں گے وہ تجھ سے نہیں بلکہ خدا سے بیعت کریں گے خدا کا ہاتھ ہوگا جو ان کے ہاتھوں پر ہوگا۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳صفحہ ۵۶۵) (ب) ’’اُس نے اس سلسلہ کے قائم کرنے کے وقت مجھے فرمایا کہ زمین میں طوفانِ ضلالت برپا ہے تو اِس طوفان کے وقت میں یہ کشتی طیار کر۔جو شخص اِس کشتی میں سوار ہوگا و ہ غرق ہونے سے نجات پا جائے گا اور جو انکار میں رہے گا اُس کے لئے موت درپیش ہے۔اورفرمایا کہ جو شخص تیرے ہاتھ میں ہاتھ دے گا اُس نے تیرے ہاتھ میں نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہاتھ دیا۔‘‘ (فتح اسلام۔روحانی خزائن جلد۳ صفحہ۲۴، ۲۵) ۱۸۸۹ء ’’خدا تعالیٰ نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا… کہ خدا تعالیٰ کے حضور میں اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ حاضر ہوجاؤ اور اپنے ربّ کریم کو اکیلا مت چھوڑو۔جو شخص اُسے اکیلا چھوڑتا ہے وہ اکیلا چھوڑا جائے گا۔‘‘ (اشتہار تکمیل تبلیغ مورخہ ۱۲ ؍ جنوری ۱۸۸۹ء۔مجموعہ اشتہارات جلد ۱ صفحہ۲۰۹ مطبوعہ ۲۰۰۸ء ) ۴؍ مارچ ۱۸۸۹ء ’’مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض فوائد و منافع بیعت کہ جو آپ لوگوں کے لئے مقدّر ہیں اِس انتظام پر موقوف ہیں کہ آپ سب صاحبوں کے اسماء مُبارکہ ایک کتاب میں بقید ولدیت و سکونت مستقل و عارضی طورمعہ کسی قدر کیفیت کے (اگرممکن ہو) اندراج پاویں۔‘‘ (اشتہار گذارش ضروری مورخہ ۴؍مارچ ۱۸۸۹ء۔ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد۳ صفحہ ۵۵۸) ۴؍ مارچ ۱۸۸۹ء ’’یہ انتظام جس کے ذریعہ سے راستبازوں کا گروہ کثیر ایک ہی سلک میں منسلک ہوکر وحدت مجموعی کے پیرایہ میں خلق اللہ پر جلوہ نما ہوگا اور اپنی سچائی کی مُـختلفُ المَخرَج شعاعوں کو ایک ہی خط ِ ممتد میں ظاہر کرے گا۔خداوند عزّوجلّ کو بہت پسند آیا ہے۔‘‘ (اشتہار گذارش ضروری مورخہ ۴؍ مارچ۱۸۸۹ء۔ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد۳ صفحہ ۵۵۹) ۴؍ مارچ ۱۸۸۹ء ’’خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ محض اپنے فضل اور کرامت خاص سے اس عاجز کی دعاؤں او راس ناچیز کی توجہ کو ان کی؎۱پاک استعدادوں کے ظہور و بروز کا وسیلہ ٹھہراوے اور اس قدوس جلیل الذّات نے مجھے جوش بخشا ہے تا میں ان طالبوں کی تربیت باطنی میں مصروف ہوجاؤں۔‘‘ (اشتہار گذارش ضروری مورخہ۴؍مارچ۱۸۸۹ء۔ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد۳ صفحہ۵۶۲) ۱ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) بیعت ِ اولیٰ لدھیانہ میں ۲۰؍رجب ۱۳۰۶ھ مطابق۲۳؍ مارچ ۱۸۸۹ء بروز شنبہ کو ہوئی۔