تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 125 of 1089

تذکرہ — Page 125

پھل دیئے گئے جن میں سے ایک پھل الگ وضع کا ہے تو یہی سمجھا جاتا ہے۔وَاللہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔‘‘ (از مکتوب بنام حضرت حکیم مولوی نور الدین صاحبؓ۔مکتوبات احمد جلد۲ صفحہ ۱۲،۱۳ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱۸۸۶ء ’’ان دنوں اتفاقاً نئی شادی کے لئے دو شخصوں نے تحریک کی تھی مگر جب ان کی نسبت استخارہ کیا گیا تو ایک عورت کی نسبت جواب ملا کہ اس کی قِسمت میں ذلّت و محتاجگی و بے عزتی ہے اور اس لائق نہیں کہ تمہاری اہلیہ ہو اور دُوسری کی نسبت اشارہ ہوا کہ اس کی شکل اچھی نہیں۔گویا یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ صاحب ِ صورت و صاحب ِ سیرت لڑکا جس کی بشارت دی گئی ہے وہ برعایت مناسبت ظاہری اہلیہ جمیلہ و پارسا طبع سے پیدا ہوسکتا ہے۔وَاللہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔‘‘ (از مکتوب بنام حضرت حکیم مولوی نور الدین صاحب ؓ۔مکتوبات احمد جلد ۲ صفحہ ۱۳ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) مارچ۱۸۸۶ء ’’اِس عاجز کے اشتہار مورخہ۲۰فروری۱۸۸۶ء پر جس میں ایک پیشگوئی دربارہ توَلُّد ایک فرزند صالح ہے جو بصفات مندرجہ اشتہار پیدا ہوگا… ایسا لڑکا بموجب وعدۂ الٰہی ۹ برس؎۱ کے عرصہ تک ضرور پیدا ہوگا۔خواہ جلد ہو خواہ دیر سے۔بہرحال اس عرصہ کے اندر پیدا ہوجائے گا۔‘‘ (اشتہار ۲۲؍مارچ۱۸۸۶ء۔مجموعہ اشتہارات جلد ۱صفحہ ۱۲۸ مطبوعہ ۲۰۱۸ء) ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔(الف)’’جن صفاتِ خاصہ کے ساتھ لڑکے کی بشارت دی گئی ہے کسی لمبی میعاد سے گو نو برس سے بھی دو چند ہوتی۔اُس کی عظمت اور شان میں کچھ فرق نہیں آسکتا بلکہ صریح دلی انصاف ہریک انسان کا شہادت دیتا ہے کہ ایسی عالی درجہ کی خبر جو ایسے نامی اور اخصّ آدمی کے تولّد پر مشتمل ہے انسانی طاقتوں سے بالاتر ہے اور دعا کی قبولیت ہو کر ایسی خبر کا ملنا بےشک یہ بڑا بھاری آسمانی نشان ہے نہ یہ کہ صرف پیشگوئی ہے۔‘‘ (اشتہار صداقت آثار مورخہ ۸؍اپریل۱۸۸۶ء۔مجموعہ اشتہارات جلد ۱ صفحہ ۱۳۲ مطبوعہ ۲۰۱۸ء) (ب) ’’وہ اگرچہ اب تک جو یکم دسمبر ۱۸۸۸ء ہے پیدا نہیں ہوا مگر خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق اپنی میعاد کے اندر ضرور پیدا ہوگا۔زمین آسمان ٹل سکتے ہیں پر اس کے وعدوں کا ٹلنا ممکن نہیں۔‘‘ (سبز اشتہار۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۴۵۳ حاشیہ) (ج) ’’میں جانتا ہوں اور محکم یقین سے جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اپنے وعدے کے موافق مجھ سے معاملہ کرے گا اور اگر ابھی اس موعود لڑکے کے پیدا ہونے کا وقت نہیں آیا تو دوسرے وقت میں وہ ظہور پذیر ہوگا اور اگر مدّتِ مقررہ سے ایک دن بھی باقی رہ جائے گا تو خدائے عزّوجلّ اُس دن کو ختم نہیں کرے گاجب تک اپنے وعدہ کو پورا نہ کرلے۔‘‘ (اشتہار تکمیل تبلیغ مورخہ ۱۲؍ جنوری۱۸۸۹ء۔مجموعہ اشتہارات جلد ۱ صفحہ ۲۰۸ حاشیہ مطبوعہ ۲۰۱۸ء)