تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 124 of 1089

تذکرہ — Page 124

برکت دُوں گا اور اُن میں کثرت بخشوں گا اور وہ مسلمانوں کے اس دو سرے گروہ پر تابروز قیامت غالب رہیں گے جو حاسدوں اور معاندوں کا گروہ ہے۔خدا اُنہیں نہیں بھُولے گا اور فراموش نہیں کرے گا اور وہ علیٰ حسب الاخلاص اپنا اپنا اَجر پائیں گے۔تُو مجھ سے ایسا ہے جیسے انبیاء بنی اسرائیل (یعنی ظلّی طور پر اُن سے مشابہت رکھتا ہے) تُو مجھ سے ایسا ہے جیسی میری توحید۔تُو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں۔اور وہ وقت آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ خدا بادشاہوں اور امیروں کے دلوں میں تیری محبّت ڈالے گا یہاں تک کہ وہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔اے منکرو اور حق کے مخالفو! اگر تم میرے بندہ کی نسبت شک میں ہو۔اگر تمہیں اُس فضل و احسان سے کچھ انکار ہے جو ہم نے اپنے بندہ پر کیاتو اس نشانِ رحمت کی مانند تم بھی اپنی نسبت کوئی سچا نشان پیش کرو اگر تم سچے ہواور اگر تم پیش نہ کرسکو اور یاد رکھوکہ ہرگز پیش نہ کرسکو گے تو اُس آگ سے ڈروکہ جو نافرمانوں اور جھوٹوں اور حد سے بڑھنے والوں کے لئے تیار ہے۔فقط۔‘‘ ( اشتہار۲۰؍فروری۱۸۸۶ء۔مجموعہ اشتہارات جلد ۱صفحہ ۱۲۵ تا ۱۲۷ مطبوعہ ۲۰۱۸ء) ۱۸۸۶ء ’’ شایدچار ماہ کا عرصہ ہوا کہ اس عاجز پر ظاہر کیا گیا تھا کہ ایک فرزند قوی الطاقتین کامل الظاہر و الباطن تم کو عطا کیا جائے گا۔سو اُس کا نام بشیرؔہوگا۔اب تک میرا قیاسی طور پر خیال تھا کہ شاید وہ فرزند مبارک اسی اہلیہ سے ہوگا اب زیادہ تر الہام اس بات میں ہورہے ہیں کہ عنقریب ایک اور نکاح تمہیں کرنا پڑے گا اور جنابِ الٰہی میں یہ بات قرار پاچکی ہے کہ ایک پارسا طبع اور نیک سیرت اہلیہ تمہیں عطا ہوگی وہ صاحب ِ اولاد ہوگی۔اس میں تعجب کی بات یہ ہے کہ جب الہام ہوا تو ایک کشفی عالم میں چار پھل مجھ کو دیئے گئے تین ان میں سے تو آم کے تھے مگر ایک پھل سبز رنگ بہت بڑا تھا۔وہ اس جہان کے پھلوں سے مشابہ نہیں تھا۔اگرچہ ابھی یہ الہامی بات نہیں ہے میرے دل میں یہ پڑا ہے کہ وہ پھل جو اس جہان کے پھلوں میں سے نہیں ہے وہی مبارک لڑکا ہے کیونکہ کچھ شک نہیں کہ پھلوں سے مُراد اولاد ہے۔اور جبکہ ایک پارسا طبع اہلیہ کی بشارت دی گئی اور ساتھ ہی کشفی طور پر چار