تذکرہ — Page 99
قُلْ لِّضَیْفِکَ۱؎ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ۔قُلْ لِّاَخِیْکَ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ۔یہ الہام بھی چند مرتبہ ہوا۔اس کے معنے بھی دو ہی ہیںایک تو یہ کہ جو تیرا مورد فیض یا بھائی ہے اس کو کہہ دے کہ میں تیرے پر اتمام نعمت کروں گا۔دوسرے معنے یہ ہیں کہ میں (تجھے) وفات دوں گا۔معلوم نہیں کہ یہ شخص کون ہے۔اس قسم کے تعلقات کے کم وبیش کوئی لوگ ہیں۔اس عاجز پر اس قسم کے الہامات اور مکاشفات اکثر وارد ہوتے رہتےہیں جن میں اپنی نسبت اور بعض احباب کی نسبت، اُن کے عُسـر یُسـر کی نسبت، اُن کے حوادث کی نسبت، ان کی عمر کی نسبت ظاہر ہوتا رہتا ہے۔‘‘ (ازمکتوب بنام میر عباس علی صاحب۔مکتوبات احمد جلد اوّل صفحہ۵۸۲ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ’’پندرہ؎۲برس کے بعد جب میرے بھائی؎۳کی وفات کا وقت نزدیک آیا تو میں امرتسر تھا مجھے خواب میں دکھلایا گیا کہ اب قطعی طور پر اُن کی زندگی کا پیالہ پُر ہوچکا اور بہت جلد فوت ہونے والے ہیں۔میں نے وہ خواب حکیم محمد شریف کو جو امرتسر میں ایک حکیم تھے سنائی اور پھر اپنے بھائی کو خط لکھا کہ آپ امور آخرت کی طرف متوجہ ہوں کیونکہ مجھے دکھلایا گیا ہے کہ آپ کی زندگی کے دن تھوڑے ہیں۔انہوں نے عام گھر والوں کو اس سے اطلاع دے دی اور پھر چند ہفتہ میں ہی اس جہانِ فانی سے گذرے۔‘‘ (تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۲۱۱، ۲۱۲) ۱۸۸۳ء ’’ اکسٹھواں نشان اپنے بھائی مرزا غلام قادر مرحوم کی وفات کی نسبت پیشگوئی ہے جس میں میرے ایک بیٹے کی طرف سے بطور حکایت عن الغیر مجھے یہ الہام ہوا۔۱ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) حیاتِ احمد (مرتبہ شیخ یعقوب علی صاحبؓ عرفانی) جلد ۲ نمبر۲ صفحہ ۷۲ پر یہ الہام واضح طور پر بالفاظ قُلْ لِضَیْفِکَ الخ درج ہے لیکن مکتوبات جلد اوّل صفحہ ۶۷ میں یہ لفظ ایسا صاف نہیں لکھا بلکہ کچھ ایسا لکھا (لضیفک) ہے کہ لِضَیْفِکَ کی بجائے لِفَیْضِکَ بھی پڑھا جاسکتا ہے اور ترجمہ کے الفاظ ’’مورد فیض‘‘ اس احتمال کو اور بھی قوت دیتے ہیں۔گو ضَیْف کے معنے بھی موردِ فیض سمجھے جاسکتے ہیں۔وَاللہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ انہی ایام میں حضور کے بھائی مرزا غلام قادر صاحب کی وفات ہوئی تھی۔۲ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمد ؓ) ۱۸۶۸ءمیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے بھائی مرزا غلام قادر صاحب مرحوم سخت بیمار ہوگئے تھے اور بالکل ایک مُشتِ استخواں سے رہ گئے تھے۔حضرت اقدس ؑ نے ان کے لئے دعا کی تو خواب میں دکھایا گیا کہ آپ ایک پورے تندرست انسان کی طرح بغیر کسی سہارے کے مکان میں چل رہے ہیں چنانچہ حضور ؑ نے لکھا ہے کہ برادر مذکور اس خواب کے پندرہ برس بعد تک زندہ رہے۔مفصل دیکھیے صفحہ نمبر ۷،۸۔۳ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمد ؓ) مراد مرزا غلام قادر صاحب برادر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام۔