تذکرہ — Page 100
اے عَمّی بازیءِ خویش کردی و مرا افسو س بسیار دادی۔؎۱ یہ پیشگوئی بھی اسی شرمپت آریہ کو قبل از وقت بتلائی گئی تھی اور اس الہام کا مطلب یہ تھا کہ میرے بھائی کی بے وقت اور ناگہانی موت ہوگی جو موجب صدمہ ہوگی… اور بعد اس کے میرے پر کھولا گیا کہ یہ الہام میرے بھائی کی موت کی طرف اشارہ ہے چنانچہ میرا بھائی دو تین دن کے بعد ایک ناگہانی طور پر فوت ہوگیا اور میرے اُس لڑکے کو اس کی موت کا صدمہ پہنچا۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۲۳۳، ۲۳۴) ۱۸۸۳ء ’’ہمارے بھائی مرزا غلام قادر صاحب مرحوم کی وفات سے ایک دن پہلے الہام ہوا ’’ جنازہ ‘‘ اور میں نے اس الہام کی بہت لوگوں کو خبر دے دی چنانچہ دوسرے روز بھائی صاحب فوت ہوئے؎۲۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۶۰۳) ۱۸۸۳ء ’’ سنہ ۱۸۸۳ء میں مجھ کو الہام ہوا کہ تین کو چار کرنے والا مبارک۔اور وہ الہام قبل از وقت بذریعہ اشتہارشائع کیا گیا تھا اور اس کی نسبت تفہیم یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ اس دوسری بیوی سے چار لڑکے مجھے دے گا اور چوتھے کا نام مبارک ہوگا اوراس الہام کے وقت منجملہ ان چاروں کے ایک لڑکا بھی اس نکاح سے موجود نہ تھا اور اب چاروں لڑکے بفضلہ تعالیٰ موجود ہیں۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۵۷۴) دسمبر ۱۸۸۳ء (الف) ’’اس ہفتہ میں بعض کلمات انگریزی وغیرہ الہام ہوئے ہیں… اور وہ کلمات یہ ہیں۔۱پریشن۔۲عمر۔براطوس یا پلا طوس یعنی پڑاطوس لفظ ہے یا پلاطوس لفظ ہے۔بباعث سرعت الہام دریافت نہیں ہوا اور عمرؔ عربی لفظ ہے۔اس جگہ برا طوؔس اور پریشن کے معنی دریافت کرنے ہیں کہ کیا ہیں اور کس زبان کے یہ لفظ ہیں؟پھر دو لفظ اَور ہیں۔۱ (ترجمہ از مرتّب) اے چچا! تو اپنی جان پر کھیل گیا اور مجھے بہت افسوس میں چھوڑ گیا۔۲ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) خاکسار مرتّب کے عرض کرنے پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے حضرت اُمّ المؤمنینؓ سے دریافت کیا کہ مرزا غلام قادر صاحب کی وفات کس سنہ میں ہوئی تھی تو آپ نے فرمایا کہ میری شادی سے (جو ۱۸۸۴ء میں ہوئی تھی) ایک سال قبل اُن کی وفات ہوچکی تھی نیز کتاب پنجاب چیفس میں بھی سنہ وفات۱۸۸۳ء ہی لکھا ہے۔